خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 574
خطبات مسرور جلد 15 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2016 دیکھا کہ راستے پر اکیلا کھڑا ہوں جو سیدھا اور پختہ ہے۔اتنے میں ایک ماڈرن مرسیڈیز کار آتی ہے اور اس میں ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر ایک شخص بیٹھا ہے جو مجھے کار چلانے کا حکم دیتا ہے۔میں ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ گیا۔میرے دل میں ڈالا گیا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا ہوں۔مجھے خوف سا آنے لگا۔گاڑی چلی تو راستے میں اچانک بہت سے سیاہ چہروں والے لوگ ظاہر ہوئے اور راستے کے دونوں طرف لائن بنا کر کھڑے ہو گئے اور ان کے پاس معمولی سا اسلحہ بھی تھا۔پھر انہوں نے ہم پر فائرنگ کر دی لیکن ہمیں کوئی گولی نہیں لگی اور بالکل محفوظ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔کہتے ہیں کہ رویا میں ہی میں گاڑی کھڑی کرتا ہوں تو حضرت امام مہدی علیہ السلام مجھے فرماتے ہیں کہ نیچے اتر آؤ اور گاڑی کی ڈگی کھولو۔میں نیچے اتر کر کھولتا ہوں تو وہاں لکڑی کا ایک خو بصورت صندوق ہوتا ہے جس میں ایک پانچ سالہ بچہ ہوتا ہے جو بہت خوبصورت ہے۔وہ بچہ مجھے دیکھنے لگتا ہے۔جب میں بیدار ہوا تو خواب سے بہت خوش تھا اور دل میں کہا کہ یقینا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغام ہے۔میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ نئی گاڑی سے مراد زندگی کا نیا سفر ہے۔سیاہ شکل والے جو ہم پر فائر نگ کرتے ہیں ان سے مراد اس نئے سفر سے دشمنی کرنے والے اقوال و افعال ہیں جن کا کوئی اثر نہیں ہو گا اور خوبصورت صندوق میں اسرار محفوظ کئے جاتے ہیں اور پانچ سال کے بچے سے مراد کچھ بشارات ہیں جو پانچ سال کے عرصے میں پوری ہوں گی۔کہتے ہیں کہ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی خواب کی یہ تعبیر سمجھی اور وہ اس طرح ظاہر ہوئی کہ جماعت احمدیہ سے تعارف کے بعد میری زندگی کا نیا سفر شروع ہو گیا اور خلافت خامسہ کے عہد مبارک میں مجھے جماعت میں شمولیت کی توفیق ملی۔کہتے ہیں میں اپنے گاؤں میں اکیلا احمدی تھا اور جو نہی میں نے امام مہدی کے ظہور کا اعلان کیا تو اپنے پرائے سب میرے دشمن ہو گئے۔مساجد سے میرے کفر کے فتوے جاری ہونے لگے۔پھر میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اس سفر کی تکمیل کے لئے مجھے ساتھی عطا فرمائے تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایسے نیک اور اچھے لوگ مہیا فرما دیئے جنہیں میں جانتا بھی نہ تھا اور وہی میرے حقیقی عزیز واقارب ٹھہرے۔پھر ایک دوست محمد عبد اللہ صاحب ہیں جو سیریا کے ہیں اور آجکل کینیڈا میں ہیں۔وہ کہتے ہیں میں ایک سیلز مین کی جاب کرتا تھا۔میرے گاہکوں میں سے ایک شخص کے بیٹے سے میر ا تعارف ہوا۔یہ نوجوان احمدی تھا۔اس سے تعلق بڑھا تو اس نے مجھے جماعت احمدیہ کے بنیادی عقائد اور اس کے تجدیدی مفاہیم کے بارے میں بتایا۔اس نے مجھے اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ دیا۔میں اس کتاب کو پڑھ کر بہت متاثر ہوا اور اس میں پائی جانے والی معقول باتیں بہت پسند آئیں۔پھر تقریباً ایک سال تک میں جماعت کی مختلف کتب پڑھتا رہا۔نیز ایم ٹی اے العربیہ بھی دیکھنا شروع کر دیا۔ایک سال کے مطالعہ اور ایم ٹی اے دیکھنے اور جماعت کے عقائد کا موازنہ کرنے کے بعد میرے دل میں جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی خواہش جنم لینے لگی۔لیکن میں اپنی باطنی طہارت کے حوالے