خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 573
ہو خطبات مسرور جلد 15 573 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2016 و وہ سچی جماعت ہے۔میں بھی اسی جماعت میں شامل ہو رہا ہوں۔عبد الحئی جابی صاحب با قاعدگی سے ہمارا ریڈیو سنتے تھے اور دل سے احمدی تھے مگر ابھی تک بیعت نہیں کی تھی۔لیکن اس خواب کے بعد انہوں نے فون کر کے کہا کہ میں کائی شہر سے کافی دُور رہتا ہوں۔آپ کا ریڈیو سنتا ہوں۔تبلیغ سنتا ہوں۔میں نے اس طرح خواب دیکھی ہے۔میری بیعت قبول کر لیں اور آج سے میں احمدی ہوں۔پھر مصر کے ایک دوست محمود غریب صاحب ہیں۔کہتے ہیں نو سال کی عمر سے میں خواب میں ایک بارعب آواز سنتا جس کی بازگشت میرے کانوں میں گونجتی رہتی۔میں اسے سمجھ نہ سکتا تھا لیکن اس کو سن کر میں ڈر جاتا تھا۔پھر جب 2010ء میں میرا ایم ٹی اے العربیہ سے تعارف ہوا تو اس پر شریف عودہ صاحب اور اسد موسیٰ عودہ صاحب کی آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات سنے تو فوراً سمجھ گیا کہ یہی وہ آواز تھی جو میں نو سال کی عمر میں اپنے خوابوں میں سن رہا تھا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے ایم ٹی اے مزید شغف کے ساتھ دیکھنا شروع کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام اور آپ کے قصائد میرے دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتے میں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا تصور کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر میرے سامنے آجاتی۔ایک روز میں ایم ٹی اے دیکھ رہا تھا اور ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر آرہی تھی۔میں نے اسے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تجھے خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم مجھے خود بتاؤ کہ کیا تم اپنے دعوے میں سچے ہو یا نہیں ؟ اس کے بعد کہتے ہیں میں کام پہ چلا گیا۔شام کو جب واپس آیا اور فور آئی وی آن کر کے ایم ٹی اے لگایا تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ اقتباس پڑھا جا رہا تھا کہ یا قَوْمِ اِنِّي مِنَ اللهِ اِنّى مِنَ اللهِ اِنّى مِنَ اللهِ وَأَشْهِدُ رَبِّي أَنِّي مِنَ اللَّهِ۔یعنی اے میری قوم ! میں خدا کی طرف سے ہوں۔میں خدا کی طرف سے ہوں۔میں خدا کی طرف سے ہوں اور میں اپنے رب کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی میں اپنے گھٹنوں کے بل گر گیا اور بے اختیاری کے عالم میں ٹی وی پر سے ہی حضور علیہ السلام کی تصویر کے بوسے لیتے ہوۓ عَلَيْكَ السَّلَام عَلَيْكَ السّلام کہنا شروع کر دیا۔یوں ایک لمحے میں احمدیت ہی میر اسب کچھ ہو گیا اور پھر انہوں نے بیعت کرلی۔پھر اردن کے ایک دوست جمیل سرحان صاحب ہیں۔اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1992ء میں جب اُمّتِ مسلمہ کو مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا تھا تو میں رات دن یہ سوچتا تھا کہ خیر اُمت کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اور عجیب بات ہے کہ خیر امت ہونے کے باوجود مسلمان تفرقہ اور انحطاط کا شکار ہیں اور آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔میرے اندر سے آواز آتی کہ ہمارا دین تو ایسا نہیں ہے جیسا نظر آ رہا ہے۔یقیناً کوئی ایسی بات ہے جس سے امت غفلت برت رہی ہے۔کہتے ہیں ایک رات میں نے خواب میں