خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 571

خطبات مسرور جلد 15 571 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2016 کیا اور ساتھ ہی خواب کی تعبیر پوچھی۔اس پر مربی صاحب نے انہیں قرآن کریم کی متعلقہ آیات نکال کے دکھائیں جن میں آدم کی تخلیق کے بعد فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس کی نافرمانی کا ذکر ہے۔چنانچہ انہیں بتایا گیا کہ آج صبح جو واقعہ گزرا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی ہے کہ آپ کا بیعت میں آنا دراصل فرشتوں والا طرز عمل اختیار کرنا ہے۔موصوف نے اسی وقت با قاعدہ بیعت کر لی اور جماعت میں شامل ہوئے۔اللہ کے فضل سے جماعت کے بڑے فعال رکن ہیں۔اسی طرح آئیوری کوسٹ کے شہر گراں لاؤ (Grand Lahou) کے نو مبایع دوست گونے آدما (Kone Adama) خواب کی بناء پر اپنی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد گیا ہوں۔وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہے۔میں نماز پڑھنے کے لئے ایک طرف اپنی جائے نماز بچھا تا ہوں تو اچانک ایک شخص آکر مجھ سے پوچھتا ہے کہ میں کس فرقے سے تعلق رکھنے والا مسلمان ہوں اور مجھ سے میری جائے نماز لے لیتا ہے۔میں اسے جواب دیتا ہوں کہ میں احمدی مسلمان ہوں۔اس پر وہ شخص مجھے احمدیہ مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا کہتا ہے۔چنانچہ یہ خواب دیکھ کر کہتے ہیں میری تسلی ہو گئی اور میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔اسی طرح یمن کی ایک خاتون جمیلہ صاحبہ ہیں۔ان کے قبول احمدیت کا واقعہ ہے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ جماعت احمدیہ سے تعارف سے بہت عرصہ قبل میں سعودی عرب میں تھی جہاں میر ارجحان صوفی ازم کی طرف ہو گیا اور حضرت عبد القادر جیلانی کی تالیفات مجھے بہت پسند آئیں۔ان کے بیان کردہ طریق خلوت پر عمل کر کے مجھے کسی قدر سکون ملتا اور روحانیت کا احساس ہوتا۔اس کا طریق یہ تھا۔یہ کس طرح عبادت یا ذکر کرتی تھیں کہ سوسو مرتبہ سورۃ فاتحہ، آیتہ الکرسی اور سورۃ اخلاص پڑھنے کے بعد ایک ایک ہزار بار درود شریف اور استغفار کیا جاتا تھا۔یہ وہ صوفیوں کا طریق تھا۔کہتی ہیں انہی خلوت کے ایام میں ایک رات میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک چاند نما بہت بڑ استارہ زمین پر نازل ہوا ہے اور زمین پر چل پھر رہا ہے اور پھر چھت کے راستے وہ ہمارے گھر میں بھی داخل ہو جاتا ہے۔میں خائف اور حیران تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔چند روز بعد ہی میں نے ایک اور خواب میں پانچ مزید ستارے دیکھے جو قطار بنائے زمین پر چل رہے تھے لیکن وہ پہلے دیکھے گئے ستارے سے حجم میں چھوٹے تھے۔وہ جمیلہ صاحبہ تو اتنی واضح نہیں لیکن غالب یہی ہے کہ جو پہلا ستارہ تھاوہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہو گا باقی پھر پانچ خلفاء۔بہر حال کہتی ہیں کہ پھر جب ایم ٹی اے کے ذریعہ جماعت کے بارے میں پتا چلا تو اس کے بارے میں جاننے کی پیاس بڑھتی چلی گئی۔ایم ٹی اے دیکھنے کے دوران میرے دل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی محبت پیدا ہو کر بڑھنے لگی اور مجھے اس بات کا مکمل