خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 567
خطبات مسرور جلد 15 567 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 کسی کا حافظہ درست نہیں۔"جو حدیثیں صحیح نہیں ہیں ان میں یہی کہتے ہیں کہ کسی کا حافظہ درست نہیں ہے "یا راستباز ہونے میں کلام ہے۔" اس کی سچائی پر کچھ تحفظات ہیں۔فرمایا کہ "مگر محدثین نے یہ اصول تسلیم کر لیا ہے کہ ایک حدیث اگر ضعیف بھی ہوا کمزور حدیث بھی بظاہر نظر آتی ہو مگر اس کی پیشگوئی پوری ہو جاوے تو وہ صحیح ہوتی ہے۔پھر اس معیار پر کیونکر کوئی یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں " فرماتے ہیں" پس یاد رکھو کہ آنے والا یا تو نصوص صریحہ سے پر کھا جاتا ہے، وہ اس کی تائید کرتی ہیں اور پھر عقل چونکہ ہدوں نظیر نہیں مان سکتی۔' بغیر مثال کے، بغیر اس کے شواہد کے عقل کسی چیز کو نہیں مانتی تو " عقلی نظائر اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔"جو مثالیں ساتھ دی جاتی ہیں وہ بھی عقلی مثالیں ہیں اور شہادۃ دی جاتی ہیں۔" فرمایا " اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی تائیدیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔اگر کسی کو کوئی شک و شبہ ہو تو وہ میرے سامنے آئے اور ان طریقوں سے جو منہاج نبوت پر ہیں میری سچائی کا ثبوت مجھ سے لے۔میں اگر جھوٹا ہوں گا تو بھاگ جاؤں گا۔مگر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے انیس برس پہلے " جب آپ نے یہ لکھا اس وقت آپ کے دعوے کو انہیں سال گزر چکے تھے آپ ایک الہام کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انیس برس پہلے " مجھے کہا يَنْصُرُكَ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ "جب آپ نے یہ تحریر فرمائی اس سے انیس سال پہلے یہ الہام ہوا تھا کہ يَنْصُرُكَ اللهُ فِی مَوَاطِنَ۔کہ خدا کئی میدانوں میں تیری مدد کرے گا۔فرمایا " پس جس طرح نبیوں یا رسولوں کو پر کھا گیا مجھے پر کھ لو اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس معیار پر مجھے صادق پاؤ گے۔" اور ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیشمار میدانوں میں آپ کی مدد فرمائی۔فرمایا کہ " یہ باتیں میں نے مختصر طور پر کہی ہیں۔ان پر غور کرو اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کر و۔وہ قادر ہے کوئی راہ کھول دے گا۔اس کی تائید اور نصرت صادق ہی کو ملتی ہے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 38 تا 41) آپ کی مجلس میں مولویوں کا ذکر ہو رہا تھا تو ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور اب تو مولوی لوگوں نے وہ خطبے وغیرہ پڑھنے چھوڑ دیئے ہیں جن سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی تھی۔آپ نے فرمایا " اب تو وہ نام بھی نہ لیں گے اور اگر کوئی ذکر کرے تو کہیں گے کہ مسیح اور مہدی کا ذکر ہی چھوڑو۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 286) بہر حال ان مولویوں کا تو یہ حال ہے کہ اپنے مفادات کے لئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ صرف خود کرتے ہیں بلکہ آپ کی طرف اور جماعت احمدیہ کے عقائد کی طرف جھوٹی اور غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور عامتہ المسلمین کے دلوں میں جماعت کے خلاف نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حق معلوم کرنے کا طریقہ بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر حق معلوم کرنا ہے " پھر خدا تعالیٰ سے اپنی نمازوں میں دعائیں مانگیں کہ وہ اُن پر حق کھول دے اور " آپ فرماتے ہیں کہ