خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 568
خطبات مسرور جلد 15 568 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر انسان تعصب اور ضد سے پاک ہو کر حق کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرے گا تو ایک چلہ نہ گزرے گا کہ اس پر حق کھل جائے گا۔" چالیس دن پورے نہیں ہوں گے کہ اس پہ حق کھل جائے گا اگر خالی الذہن ہو کے اور حق مانگنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مانگو فرمایا مگر بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان شرائط کے ساتھ خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اس طرح پر اپنی کم سمجھی یا ضد و تعصب کی وجہ سے خدا کے ولی کا انکار کر کے ایمان سلب کرا لیتے ہیں۔" فرمایا" کیونکہ جب ولی پر ایمان نہ رہے تو ولی جو نبوت کے لئے بطور شیخ کے ہے اسے پھر نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے اور نبی کے انکار سے خدا کا انکار ہوتا ہے اور اس طرح پر بالکل ایمان سلب ہو جاتا ہے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 16) ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے کہ وہ صرف مولویوں کی باتوں میں نہ آئیں بلکہ اپنی عقل استعمال کریں اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔اللہ تعالیٰ ان کے دل کھولے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر اس حالت سے باہر نکلیں جس ایک عجیب حالت میں آجکل مسلمان دنیا پھنسی ہوئی ہے۔کوئی رستہ ان کو فرار کا نظر نہیں آرہا۔پاکستان میں بھی نئی نئی تنظیمیں بن رہی ہیں۔اب نئی تنظیم لبیک یارسول اللہ کی بنی۔جنہوں نے مارچ کر کے پہلے لاہور کا گھیراؤ کیا۔پھر اسلام آباد کا گھیراؤ کیا۔اس کے بعد اسی نام کی ایک اور تنظیم ہے جو گھیراؤ کر رہی ہے اور اسلام آباد کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔اور کوئی حکومت، کوئی فوج، کوئی قانون ان کو روک نہیں سکتا۔لبیک یار سول اللہ کہنے والے تو اصل میں ہم احمدی ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سنا کہ جب میرا مسیح و مہدی آئے تو اس کو ماننا۔اس کو سلام کہنا۔یہ ہے لبیک کہنے کا صحیح طریقہ۔کاش کہ یہ لوگ بھی اس کو سمجھیں اور بجائے کھو کھلے نعروں کے لبیک یا رسول اللہ کی حقیقت کو سمجھیں۔اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی، پاکستان کو بھی، ہر مسلمان ملک کو بھی فتنہ وفساد سے بچائے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر خاص رحم فرمائے کیونکہ آجکل جو حالات ہو رہے ہیں اور مسلمان دنیا کے خلاف جو منصوبہ بندی ہو رہی ہے وہ بہت خوفناک ہے۔اگر انہوں نے ابھی بھی نہ سمجھا تو پھر بعد میں یہ پچھتائیں گے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 08دسمبر 2017ء تا14 دسمبر 2017ء جلد 24 شمارہ 49 صفحہ 05 تا08)