خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 566

خطبات مسرور جلد 15 566 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 کہ جیسے موسوی سلسلہ خلافت کا خاتم الخلفاء مسیح تھا۔ضرور ہے کہ سلسلہ محمدیہ کے خلفاء کا خاتم بھی ایک مسیح ہی ہو۔" تیسری بات یہ کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔تم میں سے تمہارا امام ہو گا۔" چوتھی بات " آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد تجدید دین کے لئے بھیجا جاتا ہے۔اب اس صدی کا مجدد ہو نا ضروری تھا اور مجدد کا جو کام ہوتا ہے وہ اصلاح فسادات موجودہ ہوتا ہے۔" جو موجودہ فساد ہر جگہ پیدا ہوا ہوا ہے اس کی اصلاح کرنا۔" پس جو فساد اور فتنہ اس وقت سب سے بڑھ کر ہے وہ عیسائی فتنہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس صدی کا جو مجدد ہو وہ کا سر الصلیب ہو۔جس کا دوسرانام مسیح موعود ہے۔"پانچویں بات یہ کہ "موسوی خلافت کی مماثلت کے لحاظ سے بھی خاتم الخلفاء سلسلہ محمدیہ کا چودھویں ہی صدی میں ہونا ضروری ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں مسیح علیہ السلام آئے تھے۔چھٹی بات یہ کہ "جو علامات مسیح موعود کی مقرر تھیں ان میں سے بہت سی پوری ہو چکیں جیسے کسوف خسوف کا رمضان میں ہونا جو دو مر تبہ ہو چکا۔حج کا بند ہونا۔ذوالسنین ستارہ کا نکلنا۔طاعون کا پھوٹنا۔ریلوں کا اجراء۔اونٹوں کا بیکار ہونا وغیرہ۔" ساتویں بات یہ کہ "سورہ فاتحہ کی دعا سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا اس اُمت میں سے ہو گا۔غرض ایک دو نہیں صد با دلائل اس امر پر ہیں کہ آنے والا اسی اُمت میں سے آنا چاہئے اور اس کا یہی وقت ہے۔اب خدا تعالیٰ کے الہام اور وحی سے میں کہتا ہوں۔وہ جو آنے والا تھا وہ میں ہوں۔قدیم سے خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر جو طریق ثبوت کا رکھا ہوا ہے وہ مجھ سے جس کا جی چاہے لے لے۔جو نشانات میری تائید میں ظاہر ہوئے ہیں ان کو دیکھ لو۔مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں ان مخالفوں کی حالت پر نظر کر تاہوں کہ جن امور کو بطور نشان پیش کیا کرتے تھے اب وہ جب پورے ہو گئے تو ان کی صحت پر اعتراض کرنے لگے۔"مثلاً پہلے چاند سورج گرہن کی نشانی مانگا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ "مثلاً کسوف خسوف والی پیشگوئی کو اب کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔مگر کوئی ان سے پوچھے کہ جس کو خدا تعالیٰ نے صحیح ثابت کر دیا کیا اب وہ ان کے کہنے سے جھوٹی ہو جائے گی ؟" آپ فرماتے ہیں کہ "افسوس تو یہ ہے کہ اتنا کہتے ہوئے ان کو شرم نہیں آتی کہ اس سے ہم مسیح موعود کی تکذیب نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کر رہے ہیں۔میری تصدیق اور تائید کے لئے ایک کسوف خسوف ہی نہیں ہزار ہاد لا ئل اور شواہد ہیں اور اگر ایک نہ بھی ہو تو کچھ بگڑتا نہیں۔مگر اس سے یہ تو پایا جائے گا کہ یہ پیشگوئی غلط ہوئی۔افسوس یہ لوگ میری مخالفت میں سید الصادقین کی پیشگوئی کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔ہم اس پیشگوئی کو بڑے زور سے پیش کرتے ہیں۔یہ ہمارے آقا کی صداقت کا نشان ہے۔فرمایا کہ " پس حدیث جس کو تم ظن کی سیاہی سے لکھتے تھے واقعہ نے اس کی صداقت کو یقین تک پہنچا دیا۔اب اس سے انکار کرنا بے ایمانی اور لعنت ہے۔موضوع احادیث میں کیا محدث یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے چور پکڑ لیا ہے۔نہیں۔بلکہ یہی کہیں گے کہ -