خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 565
خطبات مسرور جلد 15 565 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 تو دو آئینے پڑے ہیں کون سا لے آؤں۔آقا نے کہا کہ ایک ہی ہے۔دو نہیں۔تو آخول نے کہا تو کیا میں جھوٹا ہوں؟" میں نے دو دیکھے ہیں۔آپ کہہ رہے ہیں ایک ہے۔" آقا نے کہا اچھا ایک کو توڑ دے۔جب تو ڑا گیا تو اسے معلوم ہوا کہ در حقیقت میری غلطی تھی " کیونکہ جو اس نے توڑا تھا وہ اصل میں ایک ہی تھا۔تو فرمایا "مگر ان احولوں کو جو میرے مقابل ہیں کیا جواب دوں ؟ غرض ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ بار بار اگر کچھ پیش کرتے ہیں تو احادیث کا ذخیرہ، جس کو خود یہ ظن کے درجہ سے آگے نہیں بڑھاتے۔ان کو معلوم نہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ ان کے رطب و یابس امور پر لوگ ہنسی کریں گے۔یہ ہر ایک طالب حق کا حق ہے کہ وہ ہم سے ہمارے دعویٰ کا ثبوت مانگے۔اس کے لئے ہم وہی پیش کرتے ہیں جو نبیوں نے پیش کیا۔نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ، عقلی دلائل یعنی موجودہ ضرور تیں جو مصلح کے لئے مستدعی ہیں۔پھر وہ نشانات جو خدا نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے۔" فرمایا کہ "میں نے ایک نقشہ مرتب کر دیا ہے۔اس میں ڈیڑھ سو کے قریب نشانات دیے ہیں جن کے گواہ ایک نوع سے کروڑوں انسان ہیں۔"فرمایا کہ " بیہودہ باتیں پیش کرنا سعادت مند کا کام نہیں۔"آپ فرماتے ہیں کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے فرمایا تھا کہ وہ حکم ہو کر آئے گا۔اس کا فیصلہ منظور کرو۔جن لوگوں کے دل میں شرارت ہوتی ہے وہ چونکہ ماننا نہیں چاہتے اس لئے بیہودہ حجتیں اور اعتراض پیش کرتے رہتے ہیں۔مگر وہ یاد رکھیں کہ آخر خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا۔" فرمایا کہ "میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میں افترا کر تا تو وہ مجھے فی الفور ہلاک کر دیتا۔مگر میر اسارا کاروبار اُس کا اپنا کاروبار ہے اور میں اُسی کی طرف سے آیا ہوں۔میری تکذیب اُس کی تکذیب ہے۔اس لئے وہ خود میری سچائی ظاہر کر دے گا۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 34-35) مولویوں کی جو ضد کی حالت ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں بھی تھی جو آپ نے بیان فرمائی۔نہ دلیل سے بات کرنا چاہتے ہیں۔نہ سمجھنا چاہتے ہیں۔وہی حالت ان کی آج ہے۔ان نشانات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف نے توریت کی پیشگوئی کے موافق مشیل موسیٰ تسلیم کیا ہے۔اس مماثلت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ جس طرح پر "جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ "موسوی خلفاء کا سلسلہ قائم ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ایک سلسلہ خلافت قائم ہو۔اگر اور کوئی بھی دلیل اس کے لئے نہ ہو تب بھی یہ مماثلت بالطبع یہ چاہتی ہے کہ ایک سلسلہ خلفاء کا ہو۔"دوسرے یہ کہ " آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر ایک سلسلہ خلافت قائم کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس سلسلہ کو پہلے سلسلہ خلافت کے ہم رنگ قرار دیا۔جیسا فرمایا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور: 56) " فرمایا کہ " اب اس وعدہ استخلاف کے موافق اور اس کی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا