خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 564
خطبات مسرور جلد 15 564 جائے۔لیکن جو دلیر اور بے باک ہے اس کا کیا علاج۔خدا خو د اس کو سمجھائے گا۔" خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 14 تا 16) پھر مسیح موعود کی آمد سے متعلق بعض نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ "حقیقت میں یہ ریلوے مسیح موعود کا ایک نشان ہے۔قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ (التكوير : 05)" کہ جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔فرمایا " دینداری تو تقویٰ کے ساتھ ہوتی ہے۔یہ لوگ اگر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ لیتْرَكُن القلاص میں ریل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اگر اس سے ریل مراد نہیں تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ حادثہ بتائیں جس سے اونٹ ترک کئے جاویں گے۔پہلی کتابوں میں بھی اشارہ ہے کہ اُس وقت " مسیح کے زمانے میں " آمد ورفت سہل ہو جائے گی۔" فرمایا " اصل تو یہ ہے کہ اس قدر نشانات پورے ہو چکے ہیں کہ یہ لوگ تو اس میدان سے بھاگ ہی گئے ہیں۔جیسے کسوف خسوف رمضان میں کیا اُس طریق پر نہیں ہوا جیسا کہ مہدی کی آیات کے لئے مقرر تھا؟ اسی طرح ابتدائے آفرینش سے ایسی سواری بھی نہیں نکلی ہے۔" فرمایا "علامات دلالت کرتی ہیں کہ مسیح موعود پیدا ہو گیا ہے۔اگر یہ لوگ ہم کو نہیں مانتے تو پھر کسی اور کی تلاش کریں اور بتائیں کہ کون ہے کیونکہ جو نشانات اس کے مقرر کئے تھے وہ تو سب کے سب پورے ہو گئے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 54-55) آپ نے فرمایا کہ اگر میری سچائی کو پرکھنا ہے تو نبیوں کے سلسلوں کو پرکھنے کی جو دلیلیں ہیں اس کے مطابق پر کھو۔اس طریق پر چلو۔نیک نیتی سے سعادتمندی کے ساتھ جن دلیلوں کو دیکھوا نہیں سمجھو۔اگر ضد کرنی ہے تو پھر کچھ نظر نہیں آئے گا۔پھر تو قرآن کریم بھی ہدایت نہیں دیتا۔فرمایا کہ "منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو آزمائیں اور پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے۔خیالی اصولوں اور تجویزوں سے کچھ نہیں بنتا اور نہ میں اپنی تصدیق خیالی باتوں سے کرتا ہوں۔میں اپنے دعوی کو منہاج نبوت کے معیار پر پیش کرتا ہوں۔پھر کیا وجہ ہے کہ اسی اصول پر اس کی سچائی کی آزمائش نہ کی جاوے۔جو دل کھول کر میری باتیں سنیں گے میں یقین رکھتا ہوں کہ فائدہ اٹھا دیں گے اور مان لیں گے۔لیکن جو دل میں بخل اور کینہ رکھتے ہیں ان کو میری باتیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی۔ان کی تو آخول جیسی مثال ہے " یعنی بھینگا آدمی جو ہوتا ہے اس جیسی مثال ہے جس کو ایک کے دو نظر آتے ہیں۔"جو ایک کے دو د یکھتا ہے۔اس کو خواہ کسی قدر دلائل دیئے جائیں کہ دو نہیں ایک ہی ہے وہ تسلیم ہی نہیں کرے گا۔" ایک واقعہ سناتے ہیں۔آپ بیان فرماتے ہیں۔" کہتے ہیں کہ ایک احول "بھینگا آدمی کسی کا " خدمتگار تھا۔"نوکر ملازم تھا تو " آقا نے " اس کو " کہا کہ اندر سے آئینہ لے آؤ۔"مالک نے بھیجا جا کے اندر سے شیشہ اٹھا لاؤ۔" وہ گیا اور واپس آکر کہا کہ اندر