خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 563 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 563

خطبات مسرور جلد 15 563 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرے گا۔مگر اس نے معاذ اللہ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا۔اور اس وقت کوئی خلیفہ اس امت میں نہیں اور نہ صرف یہاں تک ہی بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شیل موسیٰ قرار دیا ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے۔معاذ اللہ۔کیونکہ اس سلسلہ کی اتم مشابہت اور مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اس چودھویں صدی پر اسی اُمت میں سے ایک مسیح پیدا ہو تا اُسی طرح پر جیسے موسوی سلسلہ میں چودھویں صدی پر ایک مسیح آیا۔اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4)۔میں ایک آنے والے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی۔فرمایا پھر سوچو کہ کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے۔یہ میں از خود نہیں کہتا۔خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " میری تکذیب میری تکذیب نہیں۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرآت کرے، ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے۔" پھر اس بات کو مزید کھولتے ہوئے کہ آپ کی تکذیب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے ؟ "جب میں کہتا ہوں کہ تکذیب کر رہے ہو۔فرمایا کہ " اس طرح پر کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مسجد د آئے گا وہ معاذ اللہ جھوٹا نکلا۔پھر آپ نے جو امامُكُمْ مِنْكُمْ فرمایا تھا ، وہ بھی معاذ اللہ غلط ہوا ہے۔اور آپ نے جو صلیبی فتنہ کے وقت ایک مسیح و مہدی کے آنے کی بشارت دی تھی وہ بھی معاذ اللہ غلط نکلی کیونکہ فتنہ تو موجود ہو گیا مگر وہ آنے والا امام نہ آیا۔اب ان باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا عملی طور پر کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کائکذب ٹھہرے گا یا نہیں ؟" فرمایا " پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان امر نہیں۔مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کافر بننا ہو گا۔مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہو گی مگر پہلے اپنی گمراہی اور رُوسیاہی کو مان لینا پڑے گا۔مجھے قرآن و حدیث کو چھوڑنے والا کہنے کے لئے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑ دینا پڑے گا اور پھر بھی وہی چھوڑے گا۔میں قرآن و حدیث کا مصدق و مصداق ہوں۔میں گمراہ نہیں بلکہ مہدی ہوں۔میں کافر نہیں بلکہ آنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْن کا مصداق صحیح ہوں اور جو کچھ میں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ سچ ہے۔جس کو خدا پر یقین ہے، جو قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق مانتا ہے اس کے لئے یہی حجت کافی ہے کہ میرے منہ سے سن کر خاموش ہو