خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 562
خطبات مسرور جلد 15 562 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 اور تاریخ سے اس امر کی شہادت ملتی ہے کہ توریت کے احکام انہوں نے چھوڑ دیے تھے اور اس کی بجائے طالمود اور بزرگوں کی روایتوں پر زیادہ زور دیتے تھے۔اس وقت مسلمانوں میں بھی ایسی ہی حالت پیدا ہو گئی ہے۔کتاب اللہ کو چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی بجائے روایتوں اور قصوں پر زور مارا جاتا ہے۔۔۔۔" پھر آپ فرماتے ہیں ان سب کے علاوہ ایک اور ستر بھی ہے جو " اس " مماثلت کو مکمل کرتا ہے۔" ایک اور راز ہے جو اس مماثلت کو، مشابہت کو مکمل کرتا ہے " اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح اخلاقی تعلیم پر زور دیتے تھے اور موسوی جہادوں کی اصلاح کرنے آئے تھے۔انہوں نے کوئی تلوار نہیں اٹھائی۔مسیح موعود کے لئے بھی یہی مقرر تھا کہ وہ اسلام کی خوبیوں کو تعلیم کی عملی سچائیوں سے قائم کرے اور اس اعتراض کو دور کرے جو اسلام پر اسی رنگ میں کیا جاتا ہے کہ وہ تلوار کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے۔یہ اعتراض مسیح موعود کے وقت میں بالکل اٹھا دیا جائے گا۔" یعنی مسیح موعود اس کے خلاف بات کرے گا۔بلکہ یہ کہے گا کہ اسلام پیار اور محبت کی تعلیم دیتا ہے اور اسی سے پھیلا ہے۔اس لئے مسیح موعود کے زمانے میں یہ اعتراض ختم ہو جائے گا۔فرمایا " کیونکہ وہ اسلام کے زندہ برکات اور فیوض سے اس کی سچائی کو دنیا پر ظاہر کرے گا اور اس سے یہ ثابت ہو گا کہ جیسے آج اس ترقی کے زمانہ میں بھی اسلام محض اپنی پاک تعلیم اور اس کے برکات اور ثمرات کے لحاظ سے موئثر اور مفید ہے ایسا ہی ہمیشہ اور ہر زمانہ میں مفید اور موئثر پایا گیا ہے کیونکہ یہ زندہ مذہب ہے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 9 تا12) یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آنے والے مسیح موعود کی پیشگوئی فرمائی اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا يَضَعُ الْحَزب۔وہ لڑائیوں کو اٹھا دے گا۔"ختم کر دے گا۔اب ان ساری شہادتوں کو جمع کرو اور بتاؤ کہ کیا اس وقت ضرورت نہیں کہ کوئی آسمانی مرد نازل ہو ؟ جب یہ مان لیا گیا کہ صدی پر مجد د آناضروری ہے تو اس صدی پر مجدد تو ضرور ہو گا۔پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت موسیٰ علیہ السلام سے ہے تو اس مماثلت کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اس صدی کا مجدد مسیح ہو کیونکہ (مسیح) چودھویں صدی پر موسیٰ کے بعد آیا تھا اور آجکل چودھویں صدی ہے۔" پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اگر میرا انکار کرتے ہو، میری تکذیب کرتے ہو تو تم اصل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تکذیب کر رہے ہو۔آپ فرماتے ہیں "میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے۔کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہر الیتا ہے۔جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعده إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر: 10) کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا جبکہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح اس محمدی سلسلہ میں