خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 560
خطبات مسرور جلد 15 560 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 شائع کی ہیں تو کئی کو ٹھے ان کتابوں سے بھر سکتے ہیں اور اگر ان کو ایک دوسرے سے ملا کر رکھا جائے تو وہ کئی میل تک پہنچ جائیں۔" عماد الدین ایک مسلمان شخص تھا جو بعد میں عیسائی ہو کے پادری بن گیا فرمایا کہ "عمادالدین کی تحریروں کے خطر ناک ہونے کا بعض انصاف پسند عیسائیوں کو بھی اعتراف ہے۔"عیسائی بھی یہ کہتے ہیں کہ اس کی بڑی خطرناک تحریریں ہیں۔" چنانچہ " اس زمانے میں " لکھنو سے جو ایک اخبار شمس الاخبار نکلا کرتا تھا۔اس میں اس کی بعض کتابوں پر یہ رائے لکھی گئی تھی کہ اگر ہندوستان میں پھر کبھی غدر ہو گا تو ایسی تحریروں سے ہو گا " جو یہ پادری لکھتا ہے۔فرمایا کہ " ایسی حالتوں میں بھی کہتے ہیں کہ اسلام کا کیا بگڑا ہے ؟ اس قسم کی باتیں وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کو یا تو اسلام سے کوئی تعلق اور درد نہیں اور یا وہ لوگ جنہوں نے حجروں کی تاریکی میں پرورش پائی ہے اور ان کو باہر کی دنیا کی کچھ خبر نہیں ہے۔پس ایسے لوگ اگر ہیں تو ان کی کچھ پرواہ نہیں۔ہاں وہ لوگ جو نورِ قلب رکھتے ہیں جن کو اسلام کے ساتھ محبت اور تعلق ہے اور زمانہ کے حالات سے آشنا ہیں ان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ وقت کسی عظیم الشان مصلح کا وقت ہے۔" اور پھر مصلح کے آنے کے لئے شہادتوں کا ذکر فرماتے ہوئے ایک زبردست شہادت آپ نے یہ بیان فرمائی۔مختلف باتیں بیان کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا : " (ملفوظات جلد 4 صفحہ 7-8)۔۔۔۔۔اور زبر دست شہادت میں اور پیش کرتا ہوں اور وہ سورۃ نور میں وعدہ استخلاف ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔(النور: 56) " فرمایا کہ " اس آیت میں وعدہ استخلاف کے موافق جو خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ہوں گے وہ پہلے خلیفوں کی طرح ہوں گے۔اسی طرح قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشیل موسیٰ فرمایا گیا ہے، جیسے فرمایا۔اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا - (المزمل: 16) اور " فرماتے ہیں کہ "آپ مثیل موسیٰ استثناء کی پیشگوئی کے موافق بھی ہیں۔" بائبل میں بھی استثناء میں لکھا ہوا ہے۔" پس اس مماثلت میں جیسے گما کا لفظ فرمایا گیا ہے ویسے ہی سورہ نور میں گما کا لفظ ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مشابہت اور مماثلت تامہ ہے۔موسوی سلسلہ کے خلفاء کا سلسلہ حضرت عیسی علیہ السلام پر آکر ختم ہو گیا تھا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔اس مماثلت کے لحاظ سے کم از کم اتنا تو ضروری ہے کہ چودھویں صدی میں ایک خلیفہ اسی رنگ و قوت کا پیدا ہو جو صحیح سے مماثلت رکھتا ہو اور اس کے قلب اور قدم پر ہو۔پس اگر اللہ تعالیٰ اس امر کی اور دوسری شہادتیں اور تائیدیں نہ بھی پیش کر تا تو یہ سلسلہ مماثلت بالطبع چاہتا تھا کہ چودھویں صدی میں