خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 559 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 559

خطبات مسرور جلد 15 559 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے موافق خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی علیم ) کی باتیں سچی ہیں۔ظالم طبع ہے وہ انسان جو ان کی تکذیب کرتا ہے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 6-7) آپ نے 1903ء میں یہ بیان فرمایا اور فرمایا کہ میرے دعوے کو 22 برس گزر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات میرے ساتھ ہیں۔اگر میں جھوٹا ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ کی تائیدات میرے ساتھ کیوں ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحه (7) دوسرے آپ نے فرمایا کہ زمانے کی ضرورت ہے اور سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس زمانے میں مسیح نے آنا تھا اور جب ضرورت ہے تو اگر میں نہیں تو کوئی دوسرا پیش کرو۔بہر حال کوئی مصلح مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آنا چاہئے کیونکہ زمانے میں فساد انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور مسلمانوں میں بھی فساد انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔پس اگر مجھے جھوٹا کہنا ہے تو اس کی دو ہی صورتیں بنیں گی یا تو کوئی دوسرا مصلح پیش کرو کیونکہ زمانہ چاہتا ہے کہ کوئی مصلح آئے۔یا اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی تکذیب کرو۔کہو کہ سارے وعدے جھوٹے تھے۔ایسے بگڑے ہوئے حالات میں کسی مصلح کے بھیجنے کا جو وعدہ تھاوہ غلط تھا۔آپ نے فرمایا کہ حفاظت دین کی ضرورت بہر حال ہے۔فرمایا کہ " بعض لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔" آپ مثال دے رہے ہیں کہ "دیکھو جو شخص باغ لگاتا ہے یا عمارت بناتا ہے تو کیا اس کا فرض نہیں ہو تا یا وہ نہیں چاہتا کہ اس کی حفاظت اور دشمنوں کی دست برد سے بچانے کے لئے ہر طرح کوشش کرے؟ باغات کے گرد کیسے کیسے احاطے حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں اور مکانات کو آتشزدگیوں سے بچانے کے لئے نئے نئے مصالحے تیار ہوتے ہیں اور بجلی سے بچانے کے لئے تاریں لگائی جاتی ہیں۔یہ امور اس فطرت کو ظاہر کرتے ہیں جو بالطبع حفاظت کے لئے انسانوں میں ہے۔پھر کیا اللہ تعالیٰ کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کرے؟ بیشک حفاظت کرتا ہے اور اس نے ہر بلا کے وقت اپنے دین کو بچایا ہے۔اب بھی جبکہ ضرورت پڑی " آپ فرماتے ہیں " اُس نے مجھے اسی لئے بھیجا ہے۔ہاں یہ امر حفاظت کا مشکوک ہو سکتا یا اس کا انکار ہو سکتا تھا اگر حالات اور ضرورتیں اس کی موید نہ ہو تیں۔" اگر حالات اور ہوتے۔ضرورت اس کی تائید نہ کر رہی ہوتی تو تم کہہ سکتے تھے کہ میں غلط وقت پہ آیا ہوں۔فرماتے ہیں "مگر کئی کروڑ کتابیں اسلام کے رد میں شائع ہو چکی ہیں اور ان اشتہاروں اور دوورقہ رسالوں کا تو شمار ہی نہیں جو ہر روز اور ہفتہ وار اور ماہوار پادریوں کی طرف سے شائع ہوتے ہیں۔ان گالیوں کو اگر جمع کیا جاوے جو ہمارے ملک کے مرتد عیسائیوں نے سید المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاک ازواج کی نسبت