خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 558
خطبات مسرور جلد 15 558 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے سے پہلے ان کی وفات ہو گئی تھی لیکن ان کو یہ یقین تھا کہ آپ ہی زمانے کے امام اور مسیح موعود ہیں۔اس لئے انہوں نے اپنی اولاد کو، اپنے مریدوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ جب بھی دعویٰ ہو گا تم مان لینا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 11 صفحہ 342-343 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مارچ 1928ء) بہر حال صاحب بصیرت لوگ بزرگ جانتے تھے کہ اسلام کی اس ڈولتی کشتی کو اگر اس زمانے میں کوئی سنبھال سکتا ہے تو وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہیں کیونکہ آپ نے براہین احمدیہ یہ لکھ کر اسلام کے مخالفین کے منہ بند کئے تھے۔آپ کا ایسا لٹریچر موجود تھا جس کا مخالفین اسلام جو اب نہیں دے سکتے تھے۔جب تک آپ نے دعویٰ نہیں کیا بڑے بڑے علماء آپ کی اس بات کے معتقد تھے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کے اذن سے آپ نے دعویٰ کیا تو یہی علماء اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے آپ کی مخالفت بھی کرنے لگ گئے اور آج تک یہی مفاد پرست علماء ہیں جو آپ کی مخالفت کر رہے ہیں اور عامتہ المسلمین کے دلوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کے خلاف نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بیشمار تحریروں اور تقریروں اور مجالس میں اپنے دعوے کے بچے ہونے کی دلیلیں دیں۔زمانے کی ضرورت کے مطابق مسیح موعود کے آنے اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے آپ کے حق میں ہونے کے بارے میں بتایا۔لیکن جو صاف دل تھے ان کو تو سمجھ آگئی اور جن کے دلوں میں بغض تھا، کینہ تھا، مفاد پرستی تھی، ان کو سمجھ نہیں آئی۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی بعض دلیلیں بیان کروں گا جو آپ نے بیان فرمائی ہیں۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اسلام میں بدعات داخل ہو چکی ہیں۔دین اپنی اصلی حالت میں نہیں رہا۔علماء اور مشائخ نے اپنی اپنی توجیہات کرلی ہیں اور بے شمار بدعات مسلمانوں میں داخل ہو چکی ہیں۔عملاً مسلمان دین سے دُور جاچکے ہیں اور غیر مذاہب خصوصا عیسائی پادری بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اسلام پر حملے کر رہے ہیں۔اور یہ بھی آپ نے فرمایا کہ ان حالات کی پیشگوئی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کی تھی اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ایک شخص کے بھیجنے کی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پیشگوئی کی تھی۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: " اب کوئی ہمارے دعوی کو چھوڑے اور الگ رہنے دے مگر ان باتوں کو سوچ کر جواب دے۔میری تکذیب کرو گے تو اسلام کو ہاتھ سے تمہیں دینا پڑے گا۔" مجھے جھوٹا کہو گے تو پھر تم اسلام سے بھی دور ہٹتے ہو فرمایا کہ "مگر میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوئی کیونکہ عین ضرورت کے وقت، خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ، رسول