خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 557
خطبات مسرور جلد 15 557 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 17 / نومبر 2017ء بمطابق 17 نبوت 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ وقت تھا وقت مسیحانہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا (در ثمین اردو صفحہ 160) وہ زمانہ جس میں سے اُس وقت مسلمان گزر رہے تھے در در رکھنے والے مسلمانوں کے لئے انتہائی بے چین کرنے والا زمانہ تھا۔لاکھوں مسلمان عیسائی ہو گئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایسی حالت ہو گئی تھی کہ ایمان ثریا پر جا چکا تھا۔عملاً مسلمانوں میں نہ دین باقی رہا تھا۔نہ اسلام کی حقیقت باقی رہی تھی۔اسلام کا درد رکھنے والے اس انتظار میں تھے کہ کوئی مسیحا آئے اور اسلام کی اس ڈولتی کشتی کو سنبھالے۔ان میں سے ایک بزرگ حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی بھی تھے۔ان کی شہرت بڑی دُور دُور تھی۔بہت سے ان کے مرید تھے۔ان کی بزرگی کی وجہ سے ایک دفعہ مہاراجہ جموں نے ان کو دعوت دے کر کہا کہ آپ جموں آکر میرے لئے دعا کریں لیکن آپ نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر دعا کروانی ہے تو میرے پاس آکر کر واؤ۔بہر حال بڑے بڑے لوگ ان کے مرید تھے۔حضرت صوفی احمد جان صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع سے ہی بڑا عقیدت کا تعلق تھا۔اُس وقت ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعویٰ نہیں کیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے سے پہلے ان کی وفات ہو گئی۔انہوں نے ہی اُس وقت اس حالت اور اس زمانے کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عرض کیا تھا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے