خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 556

خطبات مسرور جلد 15 556 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 تھے۔خلافت کے ساتھ بے پناہ عشق اور اطاعت کا تعلق تھا۔اور کہتی ہیں ان کی وفات کے بعد ہمیں علم ہوا کہ پاکستان میں کئی بیوائیں اور یتیم بچے ایسے تھے جن کی مستقل مالی امداد آپ کیا کرتے تھے۔امیر صاحب کینیڈا لکھتے ہیں کہ جس علاقے میں یہ رہتے ہیں وہاں بہت سے سکھ آباد ہیں اور سکھوں سے دوستی کی وجہ سے سکھوں نے وہاں جو اپنی ایک سکھ کلچر ایسوسی ایشن بنائی ہوئی ہے اس کا صدر ان کو بنادیا اور بڑا مجبور کر کے بنایا کہ آپ ہمارے صدر بنیں۔گاڑی نہیں چلا سکتے تھے لیکن اس کے باوجود یہ جمعہ پڑھنے کے لئے بریمپٹن سے آتے تھے اور راستے میں دو تین بسیں بدلتے تھے۔نائب امیر صاحب لکھتے ہیں کہ کینیڈا تشریف لانے کے بعد یہاں کے احمد یہ گزٹ کا معیار اس قدر بلند کیا جو اُن کے لئے قابل فخر تھا۔خلافت پر کامل یقین اور تمام خلفاء سے انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔میں بھی ان کو بچپن سے جانتا ہوں لیکن خلافت کے بعد ان میں بالکل ایک ایسی تبدیلی تھی جو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔شروع شروع میں جب کمپیوٹر وغیرہ نہیں تھے تو احمد یہ گزٹ کا اردو حصہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے اور انگریزی حصہ ٹائپ کیا کرتے تھے۔پھر خطبات کا انگریزی ترجمہ کرتے اور بار بار پڑھتے۔جب تک اطمینان نہ ہو جاتا اس وقت تک گزٹ میں شامل نہ کرتے۔حافظہ بھی بڑا اچھا تھا۔اسلامی تاریخ کا گہر امطالعہ تھا۔کوئی نہ کوئی کتاب اور رسالہ ہر وقت زیر مطالعہ رہتا تھا۔اخبار بڑے شوق سے پڑھنے والے۔اکثر صحابہ کے ایمان افروز واقعات سنایا کرتے تھے۔لکھنے والے کہتے ہیں کہ ان کے زمانے میں احمد یہ گزٹ کا شاید ہی ایسا پرچہ ہو جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرقاۃ الیقین سے کوئی نہ کوئی ایمان افروز واقعہ اردو اور انگریزی دونوں میں شائع نہ ہو۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند کرے اور ان کے بچوں کو بھی اور ان کی نسلوں کو بھی خلافت اور احمدیت سے پختہ تعلق قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 01دسمبر 2017ء تا07 دسمبر 2017ء جلد 24 شمارہ 48 صفحہ 05 تا08)