خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 555
خطبات مسرور جلد 15 555 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 انہوں نے کہا کہ میں وقف کروں گا اور والد صاحب کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ پہلے اپنابی اے مکمل کرو پھر وقف پہ آنا۔چنانچہ 1945ء میں انہوں نے بی اے کیا۔پھر حضرت مصلح موعودؓ کو اطلاع دی اور آپ نے فرمایا کہ رپورٹ کرو۔اس کے مطابق آپ گورنمنٹ کی سروس سے استعفیٰ دے کر مرکز میں پہنچ گئے اور وہاں آپ کو نائب وکیل التجارت مقرر کیا گیا۔اور پھر ہندوستان کی تقسیم کے وقت حسن محمد خان عارف صاحب نے درویش کے طور پر مستقل قادیان رہنے کی درخواست کی۔حضرت مصلح موعود نے اس کو قبول فرمایا لیکن بہر حال مرکز کی ضرورت کے تحت کچھ عرصہ بعد ان کو پاکستان میں بلوالیا گیا۔وہاں نائب وکیل التجارت کے طور پر ذمہ داری دی گئی۔پھر فرقان فورس کے دفتر انچارج بھی رہے۔1951ء میں دفتر وکالت تبشیر میں تقرر ہوا پھر 1953ء کے فسادات پنجاب کے دوران دفاتر تحریک جدید پر پولیس نے چھاپا مارا۔اس دوران حسن محمد خان عارف صاحب کو بھی گرفتار کیا گیا کیونکہ آپ کے پاس دنیا سے رپورٹیں آتی تھیں اور مبلغین کو ہر ماہ خطوط لکھتے تھے۔بہر حال مارشل لاء لگنے کے بعد ان کی رہائی ہوئی۔یوں آپ کو اللہ تعالیٰ نے اسیر راہ مولی رہنے کی بھی توفیق دی۔آپ دفتر کمیٹی آبادی کے انچارج رہے۔پھر دوبارہ وکالت تبشیر میں چلے گئے۔نائب وکیل التبشیر رہے۔تیس سال تک آپ کو نائب وکیل التبشیر کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔اس کے ساتھ ساتھ دوسرے مختلف دفاتر میں بھی عارضی طور پر کام کرتے رہے۔وکیل الدیوان رہے۔وکیل التعلیم رہے۔وکیل الزراعت رہے۔وکیل المال رہے۔افسر امانت رہے۔1981ء میں انہوں نے ریٹائر منٹ لی۔اس کے بعد یہ کینیڈا ہجرت کر گئے اور کینیڈا جا کر احمد یہ گزٹ کے ایڈیٹر کے طور پر خدمت شروع کر دی اور 2006ء تک، چھیں سال تک آپ کو یہ خدمت کی توفیق ملی۔شروع کے موصیان میں سے تھے۔وصیت نمبر آپ کا 5745 تھا۔اور تحریک جدید کے صف اول کے مجاہدین میں شامل تھے اور اُس وقت ان کا نمبر 151 تھا۔1978ء میں انہوں نے اردو زبان میں ایک کتاب مقدس کفن’ تصنیف کی۔انگریزی میں اس تصنیف کا آغاز کیا تھا۔ان کی انگلش بھی اچھی تھی۔لیکن حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ارشاد فرمایا کہ اردو زبان میں یہ کتاب تحریر کریں کیونکہ اردو زبان میں حضرت مسیح ناصری کے کفن کے متعلق یہ پہلی کتاب ہو گی۔اس کے علاوہ بچوں کی کتابیں بھی بعض آپ نے تصنیف کیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں اور سید نابلال وغیرہ شامل ہیں۔ان کی شادی 1944ء میں محترمہ سیدہ اختر فیضی صاحبہ سے ہوئی۔یہ فضل الرحمن صاحب فیضی کی بیٹی تھیں۔ان سے ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جو امریکہ اور کینیڈا میں ہی ہیں۔ان کی بہو لکھتی ہیں جو فرید احمد عارف کی بیوی ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ بڑے تہجد گزار اور باقاعدہ گریہ وزاری کے ساتھ نماز ادا کرنے والے