خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 554
خطبات مسرور جلد 15 554 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 نہیں ہیں، اگر ہمارے گھر یلو اور معاشرتی تعلقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق نہیں ہیں، اگر ہمارے دل دشمنوں کے لئے بھی بغض اور کینوں سے پاک نہیں ہیں تو پھر ہماری تبلیغ حقیقی ہدایت پہنچانے والی تبلیغ نہیں ہو گی۔ہماری حالتوں اور ہمارے انصاف کے معیاروں کو دیکھ کر غیر ہمیں کہیں گے کہ پہلے خود تو ہدایت پر عمل کرو۔پہلے خود تو انصاف کو اپنے معاشرے میں لاگو کرو پھر ہمیں کہنا۔پس بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہر احمدی کی ہے کہ اپنے عمل سے تبلیغ کے راستے کھولیں اور جو تبلیغ کے راستے ہمارے عمل سے کھلیں گے ، جو لوگ اسلام سے ہمارے عمل کو دیکھتے ہوئے متعارف ہوں گے وہ اسلام کی خوبیوں کے معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلتے ہوئے اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کے حق کو پورا کرنے والے ہوں اور آپ کی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہوں ہم دوسرں کے لئے ہدایت اور انصاف کا نمونہ بننے والے ہوں۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم حسن محمد خان عارف صاحب کا ہے جو مکرم فضل محمد خان صاحب شملوی کے صاحبزادے تھے۔حسن محمد خان عارف صاحب سابق نائب وکیل التبشیر ربوہ تھے اور احمدیہ گزٹ کینیڈا کے مدیر بھی تھے۔3/ نومبر کو ستانوے سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔حسن محمد خان عارف صاحب 26 / جنوری 1920ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ان کے والد فضل محمد خان صاحب شملوی نے 1915ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت پائی تھی۔حسن محمد خان صاحب کے والد پینتیس سال تک سرکاری محکموں میں کام کرتے رہے اور ڈپٹی اسٹنٹ فنانشل ایڈوائزر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔اس زمانے میں بھی دو انگریز ان کے ذریعہ سے مسلمان ہوئے اور اس کے علاوہ بھی درجنوں افراد کو ان کے ذریعہ سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔انہوں نے بی اے کیا پھر بڑا لمبا عرصہ نوکری کرتے رہے۔پہلے سرکاری نوکری کر رہے تھے۔پھر حضرت مصلح موعودؓ کے کہنے پہ بی اے کیا۔پھر بعد میں ربوہ میں آکے ایم اے بھی کیا۔1943ء میں حضرت مصلح موعودؓ جب دہلی تشریف لے گئے تو اس وقت حسن محمد خان عارف صاحب نے اپنی زندگی وقف کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس وقت آپ گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک محکمہ میں ملازمت کر رہے تھے۔حسن محمد خان عارف صاحب نے جب یہ بات اپنے والد صاحب کو بتائی تو وہ بڑے خوش بھی ہوئے اور ساتھ انہوں نے یہ بھی نصیحت کی کہ وقف کرنے جارہے ہو تو یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں بڑا آرام ملے گا۔اگر حقیقی رنگ میں وقف کرنا ہے تو یادر کھو کہ یہ کانٹوں کی سیج ہے اور یہاں شہزادگی والی زندگی تمہیں نہیں ملے گی اور عام آدمی کی طرح تمہیں رہنا ہو گا اور جو تمہاری موجودہ آمدنی ہے اس کی نسبت بہت کم تمہیں مشاہرہ ملے گا اور اس پر تم نے گزارہ کرنا ہے۔بہر حال