خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 553
خطبات مسرور جلد 15 553 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 کہہ دیا ہے کہ آپ ہمیں خیبر بھجوائیں گے اور مال غنیمت میں سے کچھ حصہ دیں گے اور واپس آکر میں اس کا قرض چکا دوں گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس کا حق ادا کرو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات تین دفعہ فرما دیتے تھے تو وہ قطعی فیصلہ سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ حضرت عبد اللہ اسی وقت بازار گئے۔انہوں نے ایک چادر بطور تہ بند کے باندھی ہوئی تھی اور سر کا کپڑا بھی تھا۔سر کا کپڑا اتار کر انہوں نے نہ بند کی جگہ باندھ لیا اور چادر چار در ہم میں بیچ کر قرض ادا کر دیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 336 حدیث 15570 مسند ابن أبى حدرد الأسلمي مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) تو یہ معیار تھے جو آپ نے قائم فرمائے۔یہودی کو یہ نہیں فرمایا کہ اس نے جب مہلت مانگی ہے تو وہ مہلت دے۔بلکہ اپنے صحابی کو یہ کہا کہ فوری اس کا قرض ادا کرو اور اس کے لئے انہیں اپنے تن کے کپڑے بھی اتار کے بیچنے پڑے۔تو یہ معیار ہیں عدل و انصاف کے اور یہی معیار ہیں جو ہم ہر سطح پر قائم رکھیں گے تو اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے حقیقی ماننے والوں میں شمار ہوں گے اور وہ مقصد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا ہے اسے پورا کرنے والے ہوں گے۔آپ اسلام کی تعلیم پھیلانے اور اس کی خوبیاں دنیا کو دکھانے کے لئے بھیجے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوں۔اور یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم جہاں حق کے ساتھ دنیا کو ہدایت دیں وہاں حق کے ساتھ اپنی اس تعلیم کے ساتھ انصاف کو بھی قائم کریں۔پس سورۃ اعراف کی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اسی بات کا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جنہیں ہم نے پیدا کیا ان میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو حق کے ساتھ لوگوں کو ہدایت دیتے تھے اور اسی کے ذریعہ سے انصاف کرتے تھے۔ہدایت دینے والے وہی ہمیشہ رہے ہیں جو حق و انصاف کی بات کرتے ہوئے پھر ہدایت دے رہے ہیں اور آج بھی ایسے لوگ کامیاب ہوں گے جو حق کے ساتھ ہدایت دینے والے ہیں اور انصاف قائم کرنے والے ہیں۔جب انسان خود ہدایت پر قائم نہ ہو تو دوسروں کو کیا ہدایت دے گا۔جب تک خود انسان انصاف پر قائم نہ ہو تو دوسروں کو کیا انصاف دے سکے گا۔پس ہم نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد بیعت کو پورا کرنا ہے اور آپ کے مشن کی تکمیل کرنی ہے اور اسلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچانا ہے اور تبلیغ کا حق ادا کرنا ہے تو پھر اسی اصول کے مطابق تمام اعلیٰ اخلاق کو اپنانا ہو گا جو اسلام کی تعلیم ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں، جن کے بارے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ کرو۔اگر ہماری گواہیاں حق اور انصاف کے مطابق