خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 552
خطبات مسرور جلد 15 552 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 کوششوں کا خطرہ رہتا تھا۔ایسے حالات میں جب یہ صحابہ خبر لانے کے لئے گئے تو حرم کی حد میں انہیں کچھ آدمی ملے۔دشمنوں کے آدمی تھے۔ان مسلمانوں نے سوچا کہ انہوں نے ہمیں دیکھ لیا ہے اس لئے اگر ہم نے اب ان کو زندہ چھوڑا تو یہ مکہ والوں کو خبر کر دیں گے اور وہ ہم پر حملہ کر دیں گے اور ہمیں مار دیں گے۔اس سوچ کے ساتھ صحابہ نے حملہ کر کے ان کافروں میں سے ایک یا دو کو مار دیا۔جب یہ صحابہ واپس مدینہ پہنچے تو پیچھے مکہ والوں کے آدمی بھی آگئے کہ اس طرح آپ کے لوگ ہمارے دو آدمی مار کر آگئے ہیں اور انہوں نے حرم کے اندر مارے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن کر یہ نہیں فرمایا کہ تم لوگ بھی ظلم کرتے رہے ہو۔اب تمہارے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے تو اتنا شور کیوں مچارہے ہو۔بلکہ آپ نے جو فوری کارروائی کی اور ان کو جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ تمہارے ساتھ غلط ہوا ہے اور بے انصافی ہوئی ہے۔ممکن ہے حرم میں ہونے کی وجہ سے کافروں نے پوری طرح دفاع کی کوشش نہ کی ہو۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عربوں کے دستور کے مطابق دونوں مقتولین کا خون بہا ادا کیا جائے گا اور یہ آپ نے ادا کیا اور ساتھ ہی صحابہ کی بھی بڑی سرزنش کی کہ تم نے یہ کیا غلط کام کیا۔(شرح زرقاني على مواهب اللدنيه جلد 2 صفحه 238 تا 241 سریه امیر المومنين عبد الله بن جحش مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) اسی طرح ایک واقعہ ملتا ہے کہ ایک جنگ میں غلطی سے ایک عورت صحابہ کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ صحابہ پر بڑے خفا ہوئے۔اور روایت میں آتا ہے کہ آپ کے چہرہ پر اس وقت اتنے غصے کے آثار تھے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔صحابہ نے کہا بھی کہ عورت غلطی سے ماری گئی ہے۔لیکن اس کے غلطی سے مارے جانے کے باوجود آپ کو بڑی سخت تکلیف پہنچی کہ انصاف قائم نہیں ہوا۔(صحيح البخاري كتاب الجهاد و السير باب قتل الصبيان في الحرب (3014) (الايماء الى زوائد الأمالي والأجزاء جلد دوم صفحه 543 حدیث 1860 از شامله) پھر عدل کو قائم کرتے ہوئے ایک یہودی اور ایک مسلمان کے معاملے کا کس طرح آپ نے فیصلہ فرمایا۔روایت میں آتا ہے کہ ایک یہودی کا ایک صحابی کے ذمہ چار درہم کا قرض تھا جس کی میعاد ختم ہو گئی تھی۔اس یہودی نے آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس شخص کے ذمہ میر اچار در ہم قرض ہے اور یہ مجھے ادا نہیں کرتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو بلا یا جن کا نام عبد اللہ تھا اور انہیں کہا کہ اس یہودی کا حق دے دو۔حضرت عبد اللہ نے عرض کی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے۔یہ ٹھیک ہے میں نے دینا ہے لیکن اِس وقت طاقت نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ انہیں فرمایا کہ اس شخص کا قرض واپس کرو۔عبد اللہ نے پھر وہی عرض کیا اور عرض کی کہ میں نے اسے