خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 551
خطبات مسرور جلد 15 551 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 ظلموں کا شکار ہو رہی ہیں اور شکار ہو کر تباہ ہو رہی ہیں۔نام نہاد اسلام پسند گروہ اپنے لوگوں کو بھی مار رہے ہیں اور غیر ملکوں میں بھی آکر یہاں بھی ظالمانہ حرکتیں کرتے ہیں اور اپنے ظلم کو یہ کہہ کر وہ justify کرتے ہیں کہ یہ مغربی لوگ ہمارے لوگوں کو مار رہے ہیں اس لئے ہم بھی اپنا حق استعمال کر رہے ہیں۔حالانکہ مسلمانوں کو بھی مسلمان ہی مار رہے ہیں۔ہاں غیروں سے مد دضرور لے رہے ہیں۔اب گزشتہ دنوں ایک نیا منصوبہ ان شدت پسندوں کے گروپ کا سامنے آیا ہے جو یہاں مختلف شہروں میں ، ملکوں میں وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے ہیں کہ اب یورپ میں ہم بچوں پر حملے کریں گے اور ماں باپ کے سامنے ان کے بچوں کو ماریں گے کیونکہ ان مغربی ممالک کے بمبار طیاروں نے بمباری کر کے ہمارے بچوں کو مارا، ہماری آبادیاں تباہ کیں۔حالانکہ یہ بمباری بھی تو مسلمان حکمرانوں کے کہنے پر ہوئی ہے۔بہر حال یہ قوموں کی دشمنی پھر آگے مزید دشمنیوں کے بچے پیدا کرتی چلی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو تا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرما یا کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس حد تک جانے پر مجبور نہ کرے کہ تم انصاف کے تقاضے پورے نہ کرو۔انصاف کے تقاضے تم نے بہر حال پورے کرنے ہیں اور اسی وجہ سے ظلم بڑھ رہا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور جو غیر مسلم ہمارے خلاف ہیں وہ بھی اس لئے کہ مسلمانوں کے عملی نمونے اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ مسلمان اپنے نمونے دکھاتے ہوئے اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو بتاتے ہوئے اسلام کی تبلیغ کرتے لیکن یہاں تو حساب ہی الٹا ہے اور مسلمان ممالک میں ظلموں کے علاوہ تو کچھ دیکھنے میں نہیں آتا۔اسلام کی تائید میں گواہی تو اسلامی تعلیم کی خوبصورتی بیان کر کے ہی دی جاسکتی ہے۔قرآن کریم کا کتنا خوبصورت حکم ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔یہ حکم کسی اور مذہبی کتاب میں نہیں دیا گیا۔انصاف قائم کرنے کے لئے کوئی امتیاز نہیں ہے۔انصاف حاصل کرنے کا حق مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو برابر ہے۔بلکہ دشمنوں کے ساتھ سلوک میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔اس طرف زیادہ توجہ دینی ہے۔یہ کیسی خوبصورت تعلیم ہے۔لیکن افسوس کہ اس تعلیم کے باوجود مسلمانوں کے عمل نے غیر مسلم دنیا میں اسلام کو بدنام کر دیا۔عام مسلمان، حکمران، علماء سب یہ حرکتیں کر رہے ہیں اور ان کی یہ حرکتیں ہم پر یہ ذمہ داری ڈالتی ہیں کہ اپنے عملی نمونوں سے دنیا کو بتائیں کہ اسلام کس قدر انصاف اور عدل کی تعلیم دیتا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں امن اور سلامتی کا قیام ہو سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس باریکی سے صحابہ سے اس پر عمل کروایا اس کی چند مثالیں دیتا ہوں۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر رسانی کے لئے کچھ صحابہ کو مکہ بھجوایا۔مسلمانوں کے اس وقت جو حالات تھے وہ انتہائی خطر ناک تھے۔ہر وقت دشمنوں کے حملوں اور ان کی طرف سے نقصان پہنچانے کی