خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 550
خطبات مسرور جلد 15 550 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 نومبر 2017 سعادت مندی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ دے۔پھر اپنے معاشرے میں انصاف اور عدل اور سچائی قائم کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ اپنے ذاتی معاشرتی اور قومی معاملات سے نکل کر بھی اعلیٰ معیار کا عدل اور انصاف قائم کر نا تمہاری ذمہ داری ہے اور غیر قوموں سے بھی عدل اور انصاف کا سلوک کرتے ہوئے اس کے اعلیٰ معیار قائم کرو۔اگر دشمنوں کے ساتھ بھی تم نے عدل اور انصاف کے معیار قائم نہ کئے تو خیال کیا جائے گا کہ تم تقویٰ پر چلنے والے نہیں ہو۔چنانچہ سورۃ مائدہ کی آیت 9 ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے وہ لو گو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔بعض جگہ مذہبی اختلاف ہوتے ہیں اور اس وجہ سے دوسرے مذاہب والے زیادتی بھی کر جاتے ہیں تو ایسے حالات میں ایک مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ قوموں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کی زیادتی کا بدلہ اسی طرح لیں اور انصاف کے تقاضے پورے نہ کریں۔اس بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ایک دفعہ درس میں بیان فرمایا کہ مثلاً اُس زمانے میں آریہ لوگ مسلمانوں کو نوکریوں سے تنگ کرتے تھے ، نکال دیتے تھے کہ اگر وہ ایسا کریں بھی تو مسلمان کا کام نہیں ہے کہ ان سے بدلے لے۔تبھی ہم اس حکم کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔(ماخوذ از حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 85 تفسیر سورۃ المائدة آيت9) مومن کا یہ کام کبھی نہیں ہے کہ انصاف قائم نہ کرے۔مومن کا یہ کام ہے کہ انصاف قائم کرے اور تقویٰ سے کام لے اور اپنا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑے جو ہر چیز سے باخبر ہے۔ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مضبوطی سے پکڑے اور اس پر قائم ہو اور اس میں ذرہ برابر بھی لا پرواہی نہ ہو۔ایک حقیقی مسلمان کا نمونہ بن کر دکھانا ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ہر عمل اور فعل خدا تعالیٰ کی خاطر ہو۔یہ حقیقی مسلمان کی نشانی ہے۔ایک حقیقی مومن کی نشانی ہے۔انصاف کی تائید میں گواہ بننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اسلامی تعلیم پر ایسے کار بند ہو، اس طرح عمل کرو کہ تمہارا عمل یا عملی نمونہ لوگوں کے لئے ، دوسرے مذاہب کے لئے، معاشرے کے لئے ایک مثال بن جائے۔دوسری قوموں کے لئے مثال بن جائے۔آجکل مسلمانوں کی بے انصافیوں کے بارے میں مغرب میں بہت کچھ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتے وہ غیر وں سے کیا انصاف کریں گے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے اور مسلمان ہی اپنی حرکتوں کی وجہ سے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔حکمران عوام کے حق مار رہے ہیں۔عوام حکام سے لڑ رہے ہیں، حکومتوں سے لڑ رہے ہیں۔آبادیوں کی آبادیاں