خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 544 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 544

خطبات مسرور جلد 15 544 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 سارا سال ہی اب تو یہاں باہر سے مہمان آتے ہیں اور یو کے (UK) جماعت ہر مہینے ان کی مہمان نوازی بھی کرتی ہے بلکہ یہ تعداد اب تو ہزاروں میں ہو گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: "عالمگیر کے زمانے میں مسجد شاہی کو آگ لگ گئی تو لوگ دوڑے دوڑے بادشاہ سلامت کے پاس پہنچے اور عرض کی کہ مسجد کو تو آگ لگ گئی۔اس خبر کو سن کر وہ فوراً سجدہ میں گرا اور شکر کیا۔حاشیہ نشینوں نے تعجب سے پوچھا کہ حضور سلامت یہ کون سا وقت شکر گزاری کا ہے کہ خانہ خدا کو آگ لگ گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔تو بادشاہ نے کہا کہ میں مدت سے سوچتا تھا اور آہ سر د بھر تا تھا کہ اتنی بڑی عظیم الشان مسجد جو بنی ہے اور اس عمارت کے ذریعہ سے ہزارہا مخلوقات کو فائدہ پہنچتا ہے کاش کوئی ایسی تجویز ہوتی کہ اس کارِ خیر میں کوئی میرا بھی حصہ ہو تا۔لیکن چاروں طرف سے میں اس کو ایسا مکمل اور بے نقص دیکھتا تھا کہ مجھے کچھ سوجھ نہ سکتا تھا کہ اس میں میر اثواب کسی طرح ہو جائے۔سو آج خدا تعالیٰ نے میرے واسطے حصول ثواب کی ایک راہ نکال دی۔وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيم - " پس جیسا کہ میں نے کہا جو پہلے اس قربانی میں حصہ نہیں لے سکے انہیں ضرور حصہ لینا چاہئے۔اپنی رقم کے جو بھی وعدے کریں تین سال کے عرصہ میں ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔لیکن کم از کم تیسر ا حصہ پہلے ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 387) سال میں ہی ضرور ادا کر دیں۔اس منصوبے کے جو کوائف ہیں وہ یہ ہیں۔پہلے یہ covered ایر یا چار ہزار سات سو سکوائر میٹر تھا۔اور اب اس کا جو نیا پلان بنا ہے اس کے مطابق پانچ ہزار آٹھ سو سکوائر میٹر ہے اور ناصر بال کی چھت بھی تھوڑی سی بلند کی گئی ہے۔اور اس کے علاوہ پہلا جو فلور ہو گا نور ہال ہو گا اس کی چھت بھی بلند کی گئی ہے۔پھر دوسرے فلور پر دفاتر ہوں گے پھر تیسرے فلور اور چوتھے فلور پر دفاتر اور exhibition hall اور مہمانوں کے لئے رہائش، گیسٹ روم وغیرہ بنیں گے۔پھر یہ گیٹ سے ذرا ہٹا کر بنائی گئی ہے تا کہ کچھ پارکنگ کی جگہ مل جائے۔گاڑیوں کی آمد ورفت میں آسانی رہے۔پیدل چلنے والوں کی آسانی رہے۔عورتوں اور مردوں کا راستہ علیحدہ علیحدہ ہو جائے۔تو یہ منصوبہ ہے اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور یو کے (UK) جماعت کو اس منصوبے کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم عادل حمود ناخوذہ صاحب یمن کا ہے۔14 اکتوبر کو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے چالیس سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ کے بیٹے طارق صاحب بیان کرتے ہیں کہ بیعت سے قبل میرے والد صاحب نمازوں کے پابند نہ تھے لیکن بیعت کے بعد نہ صرف پابندی سے نمازیں ادا کرنے لگے بلکہ ہمیں دین کی اہمیت اور جماعت کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی بھی ہمیشہ نصیحت کرتے رہتے۔ہمیں ساتھ لے کر گھر پر نماز باجماعت با قاعدگی سے ادا کرتے اور