خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 545
خطبات مسرور جلد 15 545 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہمیں پڑھ کر سناتے۔ایم ٹی اے کی فریکوئینسی والے کارڈ ہمیشہ اپنے پاس رکھتے۔جہاں بھی جاتے یہ کارڈ تقسیم کرتے اور تبلیغ کرتے۔احمدیت میں شامل ہو کر ان کی زندگی بالکل بدل گئی اور ہمیشہ ان پر سعادت اور خوشی کے آثار نظر آتے۔ایک احمدی دوست علی الغربانی بیان کرتے ہیں کہ بیعت سے قبل مرحوم مجھے اور بعض اور دوستوں کو اپنے گھر بلا کر احمدیت کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔چنانچہ ہم نے ان کو مختلف اختلافی مسائل، خروج دجال، حیات و وفات مسیح اور ظہور مہدی علیہ السلام وغیرہ سمجھائے۔مرحوم کو ہماری باتیں اور عقائد بہت پسند آئے۔جماعت کے خلاف جو بات سنتے خود اس کی تحقیق کرتے۔ان کے بیعت کرنے سے قبل ایک بار ہم پر جھوٹے الزام لگا کر جیل میں ڈال دیا گیا لیکن مرحوم نے باوجود اس وقت غیر احمدی ہونے کے بڑی بہادری سے ہمارا ساتھ دیا اور دفاع کیا۔آپ کے دوسرے رشتہ داروں نے بھی یہی لکھا ہے کہ بیعت کے بعد آپ کی زندگی بالکل بدل گئی تھی۔دینی امور کے سلسلہ میں بات کرتے تو ہمیشہ قرآنی آیات پیش کرتے، احادیث پیش کرتے، حوالے دے کر بات کرتے۔ہم حیران ہوتے تھے کہ آپ نے اس قدر دینی علوم اس قدر جلدی کیسے اور کہاں سے سیکھ لئے۔ہم پوچھتے تو مرحوم بتاتے یہ تمام علوم انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سیکھے ہیں کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نور حاصل کرتے تھے۔مرحوم نے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی یاد گار چھوڑے ہیں اور ان کی فیملی کے اکثر افراد اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت اور رحم کا سلوک فرماتے ہوئے اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے اور ان کے بیوی بچوں کا بھی حافظ و ناصر ہو۔ان کی ضروریات پوری کرنے والا ہو۔ان کو نیک صالح بنائے اور اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 24 نومبر 2017 ء تا 30 نومبر 2017 ، جلد 24 شماره 47 صفحہ 09t05)