خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 543
خطبات مسرور جلد 15 543 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 وہاں انتظام ہو جاتا تھا۔جلنے کے بعد اب اس میں کافی تنگی پید اہو رہی ہے اور اس کی تعمیر نو کا منصوبہ تو بنالیا گیا ہے۔کافی بڑا منصوبہ ہے۔جگہ تو تھوڑی سی زیادہ ہے لیکن بہر حال منصوبہ بڑا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جب اس مسجد کے منصوبے کی تحریک کی تھی تو شروع میں پانچ ملین کی آپ کی تحریک تھی۔بعد میں مسجد کے مین (Main) حصے کو چھوڑنے کی وجہ سے دوسری جگہوں پہ خرچ زیادہ ہو گیا تھا تو پھر پانچ ملین کی اور تحریک آپ کو کرنی پڑی۔اس کے بعد بھی مختلف کام آہستہ آہستہ ہوتے رہے جو جماعت اپنے بجٹ میں سے خرچ کرتی رہی اور کافی حد تک مکمل ہو گیا تھا۔لیکن بہر حال جو بھی ہوا یہ حادثہ ہوا۔اللہ تعالی کی یہی تقدیر تھی۔وہ آگ لگ گئی اور یہ کافی بڑا حصہ جل گیا تو اس کا جو نیا منصوبہ بنایا گیا ہے اس میں بھی تقریباً اتنی ہی رقم خرچ ہو گی۔گیارہ ملین کے قریب جس میں سے نصف کے قریب تو موجود ہے جو انشورنس وغیرہ سے ملی ہے یا دوسرے لوگوں نے بعض چندے دیئے ہیں۔نصف سے زائد کی تقریباً ضرورت پڑے گی اور اس کے لئے بہر حال احباب نے ہی قربانی کرنی ہے جس طرح ہمیشہ کرتے رہے ہیں۔مسجد بیت الفتوح کو اس وقت جب وہ سارا حصہ مکمل تھا طرز تعمیر کے لحاظ سے اور خوبصورتی کے لحاظ سے اور بڑی عمارت کے لحاظ سے یورپ کی جو پچاس بڑی عمارتیں ہیں ان کی لسٹ میں شمار کیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع " نے جب یہ منصوبہ دیا تھا تو یہ بھی اعلان فرمایا تھا اور اس کا اظہار بھی فرمایا تھا کہ مجھے امید ہے یورپ کی یہ سب سے بڑی مسجد ہو گی بلکہ اور کوئی مسجد اس سے بڑی نہیں ہو گی۔انہوں نے فرمایا تھا کہ سات آٹھ ہزار لوگ جس میں آسکیں تو ہماری ضروریات پوری ہو جائیں گی۔لیکن مسجد کی جو گنجائش تھی اس میں ہالوں سمیت دس ہزار کے قریب لوگ سماسکتے تھے۔(ماخوذ از الفضل انٹر نیشنل مورخہ 7 تا 13 اپریل 1995ء صفحہ 5-6، مورخہ 23 تا 29 مارچ 2001ء صفحہ 6) لیکن وہ گنجائش بھی دو تین سال کے بعد ہی کم ہو گئی۔پھر یہاں انتظامیہ کو اعلان کرنا پڑتا تھا کہ دوسری جماعتوں کے لوگ یہاں عید کی نماز پڑھنے نہ آئیں۔اپنے علاقوں میں پڑھیں۔لیکن اس کے باوجو د جیسا کہ احباب کو پتا ہے کہ ہمیں پارک میں علیحدہ مار کی لگانی پڑتی تھی اور عید کا انتظام کرنا پڑتا تھا۔بہر حال ضرورت تو ہے اور جس حد تک ہم اس کو بہتر اور بڑا کر کے بناسکتے ہیں ہمیں بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔وہ لوگ جن کو پہلے اس کی تعمیر میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا انہیں تو ضرور کوشش کر کے حصہ لینا چاہئے کیونکہ یہ یوکے(UK) جماعت کا منصوبہ ہے اس لئے عمومی طور پر تو جیسا کہ میں نے کہایو کے (UK) کے احمدیوں کا ہی کام ہے، جماعت کا ہی کام ہے۔انہیں اس میں حصہ لینا چاہئے۔اور باہر کی دنیا کے بھی مخیر احباب جو ہیں اس میں حصہ لیں۔ذیلی تنظیموں کو بھی ذیلی تنظیموں کی حیثیت سے، جماعتوں کو جماعتوں کی حیثیت سے ، بڑی بڑی جماعتیں جو ہیں انہیں حصہ لینا چاہئے کیونکہ