خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 542 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 542

542 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 خطبات مسرور جلد 15 جرمنی کی پہلی دس جماعتیں نوکس نمبر ایک۔پھر روئیڈر مارک۔پھر وائن گارٹن۔پھر نیڈا۔پھر اپنے برگ۔پھر مہدی آباد۔پھر ہائیڈل برگ۔پھر لمبرگ پھر کیل اور فلور زہائم۔اور ان کی جو دس بڑی امار تیں ہیں وہ ہیمبرگ۔فرینکفرٹ۔موئر فیلڈن۔گر اس گراؤ۔ویز بادن۔ڈٹسن باخ من ہائم اور ریڈ شٹڈ۔ڈارم شنڈ اور اوفن باخ۔برطانیہ کی ادائیگی کے لحاظ سے دس بڑی جماعتیں جو ہیں ان میں نمبر ایک مسجد فضل۔نمبر دو ووسٹر پارک۔نمبر تین برمنگھم ساؤتھ۔پھر بریڈ فورڈ نار تھے۔پھر پٹنی۔پھر گلاسگو۔پھر اسلام آباد۔پھر نیو مالڈن۔پھر بانگھم۔پھر م۔سکن تھورپ۔اور فی کس ادا ئیگی کے لحاظ سے جو ریجنز ہیں۔وہ ساؤتھ ویسٹ نمبر ایک ہے۔پھر نارتھ ایسٹ نمبر دو۔اسلام آباد نمبر تین۔مڈلینڈ ز نمبر چار۔سکاٹ لینڈ نمبر پانچ۔امریکہ کی جماعتیں سیلیکون ویلی نمبر ایک۔پھر اوش کوش (Oshkosh) نمبر دو۔سیئٹل (Seattle) نمبر تین۔ڈیٹرائٹ چار۔یارک پانچ۔لاس اینجلز ایسٹ چھ۔سلور سپر نگز۔سنٹرل جرسی۔شکاگو ساؤتھ ویسٹ۔اٹلانٹا۔لاس اینجلیز ان لینڈ۔وصولی کے لحاظ سے کینیڈا کی لو کل امارات میں وان نمبر ایک۔پھر پیس ویلیج۔بریمپٹن۔وینکوور۔اور مسی سا گا۔انڈیا کے صوبہ جات میں کیرالہ۔کرناٹک۔نمبر تین جموں۔کشمیر نمبر چار۔تلنگانہ۔پانچ تامل ناڈو۔چھ اڑیسہ۔سات پنجاب۔آٹھ بنگال۔نو د ہلی اور دس مہاراشٹر ہیں۔دس بڑی جماعتیں جو ہیں۔ان میں پہلے نمبر پر کالی کٹ (کیرالہ)۔پتھہ پیریم (کیرالہ)۔پھر نمبر تین قادیان۔نمبر چار حیدرآباد۔نمبر پانچ کلکتہ۔نمبر چھ بنگلور۔پھر کینا نور ٹاؤن۔پھر پینگاڑی۔پھر ماتھو ٹم۔پھر کیرولائی۔کینانور آسٹریلیا کی دس جماعتوں میں سے نمبر ایک کاسل ہل، میلبرن بیروک،Act کیسزا، مارزڈن پارک، بر زمین۔لوگن۔ایڈیلیڈ ساؤتھ۔پلمپٹن۔میلبرن لانگ وارن۔پیز تھ ، میلبرن ایسٹ۔اللہ تعالیٰ ان سب کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔اس کے بعد میں مختصراً ایک اور تحریک بھی کرنا چاہتا ہوں جو یو کے (UK) کے لئے عمومی ہے اور دنیا کے جو مخیر حضرات ہیں، جو صاحب حیثیت ہیں ان کے لئے ہے۔اور وہ مسجد بیت الفتوح کے اس جلے ہوئے حصہ کی تعمیر نو کے لئے ہے۔تقریباً دو سال کا عرصہ تو گزر گیا ہے جب مسجد کے ایک حصہ کو آگ لگی تھی۔آجکل کچھ سالوں سے 1984ء سے خلافت کے یہاں قیام کی وجہ سے دنیا سے افراد بھی یہاں آتے ہیں۔ان کی رہائش اور پھر مختلف فنکشنز ہوتے ہیں۔اب تو ویسے بھی دنیا کے ملکوں کے ذیلی تنظیموں کے بھی اور جماعتوں کے بھی بڑے بڑے وفود سارا سال آتے رہتے ہیں۔ان کی رہائش وغیرہ کا بھی مسئلہ رہتا ہے۔مسجد کے ساتھ ملحق ہال اور کمرے ہوتے تھے پہلے