خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 29

خطبات مسرور جلد 15 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 ہوتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کو بھی گھاٹا پانے والوں میں شامل کر وار ہے ہوتے ہیں۔دنیاوی خواہشات کے پورا کرنے کے لئے بچوں کی دنیاوی ترقی کے لئے تو ماں باپ فکر کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں لیکن جو اصل فکر کا مقام ہے اس کی پر واہ بھی نہیں ہوتی۔پھر ایک حقیقی مومن کے لئے صرف نماز ہی ضروری نہیں ہے جس سے اس کا روحانی میل کچیل ڈور ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس سے نہر گزر رہی ہو اور وہ اس میں پانچ بار روزانہ نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل رہ جائے گی ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یقینا کوئی میل نہیں رہے گی۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ گناہ معاف کرتا اور کمزوریاں دور کرتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب مواقيت الصلاة باب الصلوات الخمس كفارة حديث 528) پانچ نمازیں پڑھنے والے کی روح پر کوئی میل نہیں رہتی۔پس یہ ہے نماز کی اہمیت جو آنحضرت صلی نظم نے ایک خوبصورت مثال کے ذریعہ بیان فرمائی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا صرف نماز پڑھنے کا ہی حکم نہیں ہے بلکہ حقیقی مومن مردوں کو اس روح کی میل اتارنے کے لئے مزید وضاحت فرمائی ہے۔آپ صلی یہ کلم نے فرمایا کہ جس شخص نے گھر سے وضو کیا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے گھر یعنی مسجد کی طرف گیا تا کہ وہاں فرض نماز ادا کرے تو مسجد کی طرف جاتے ہوئے جتنے قدم اس نے اٹھائے ان میں سے اگر ایک قدم سے اس کا ایک گناہ معاف ہو گا تو دوسرے قدم سے اس کا ایک درجہ بلند ہو گا۔یعنی ہر قدم ہی اسے ثواب دینے والا ہے۔(صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب المشى الى الصلاة۔۔۔حديث 1406) پھر ایک موقع پر باجماعت نماز کی اہمیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالی گناہ مٹادیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے ؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے جو ہر وقت اس بات کے لئے بے چین تھے کہ ہمیں کب کوئی موقع ملے اور ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کریں، اس کو راضی کرنے کے طریقے سیکھیں، اس کا قرب حاصل کریں، اپنے گناہوں سے دوریاں پیدا کریں، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ضرور بتائیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔دل نہ چاہنے کے باوجو د خوب اچھی طرح وضو کرنا اور مسجد میں دُور سے چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ گناہوں سے ڈوریاں پیدا کرتا ہے۔آپ نے فرما یا اتنا ہی نہیں یہ ایک قسم کار باط ہے۔(صحيح مسلم كتاب الطهارة باب فضل اسباغ الوضوء على المكاره حديث 475) یعنی سرحد پر چھاؤنیاں قائم کرنے کے برابر ہے۔جس طرح ملک اپنی حفاظت کے لئے سر حدوں پر چھاؤنیاں بناتے ہیں، فوجیں رکھتے ہیں یہ اسی طرح ہے۔