خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد 15 30 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 سر حدوں پر چھاؤنیاں کیوں قائم کی جاتی ہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا اپنے ملک کی حفاظت کے لئے۔اس لئے تا کہ دشمن کے حملے سے محفوظ رہا جائے اور حملے کی صورت میں فور مقابلے کے لئے تیار ہوا جا سکے۔پس ایک مومن کو سب سے بڑا خطرہ جس سے بچنے کے لئے اس کو ضرورت ہے، جس کے بچنے کے لئے چھاؤنی قائم کرنے کی ضرورت ہے وہ خطرہ شیطان کا ہے۔دنیاوی خواہشات کا خطرہ ہے جو شیطان دل میں پیدا کر تا ہے۔ان کے ذریعہ سے شیطان حملہ کرتا ہے۔پس ان سے بچنے کے لئے نماز با جماعت کی چھاؤنی ہے۔یہی محافظوں کا دستہ ہے جو شیطان کے حملوں سے بچائے گا۔گناہوں سے انسان بچے گا اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔اسی طرح نماز باجماعت میں اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت 27 گنا زیادہ ثواب ہے۔اس کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔(صحيح البخارى كتاب الاذان باب فضل صلاة الجماعة۔۔۔حديث 645) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام با جماعت نماز کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے یعنی نماز با جماعت میں جو زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے۔اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں۔یعنی پاؤں بھی جب سیدھے صف میں کھڑے ہوں تو برابر ہوں۔اس کے لئے ایڑھیاں برابر کی جاتی ہیں۔" اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں۔صف بندی ہو گی تو ایک انسان کی طرح بن جائیں گی۔یعنی اس میں طاقت پیدا ہو گی۔" اور ایک کے انوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔" فرمایا " وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔یعنی امیر بھی، غریب بھی سب ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔بعض لوگوں کے دماغوں میں خودی ہوتی ہے یا خود غرضی ہوتی ہے اس کو باجماعت نماز ختم کرتی ہے۔فرمایا کہ " یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 247-248) کسی میں نیکی کا زیادہ اثر ہے۔نیکیوں کے اچھے اونچے مقام پر ہے تو دوسرا بھی اس اثر کو قبول کرے گا۔پس نیکیوں کے اثر کو قبول کرنے کے لئے باجماعت نماز بھی فائدہ دیتی ہے۔پس نماز با جماعت سے جہاں ایک وحدت کا اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ اُمت میں پیدا کرنا چاہتا ہے وہاں ایک دوسرے کی نیکیوں کا بھی اثر ہوتا ہے۔جب ایک ہی صف میں زیادہ نیکیاں بجالانے والے اور روحانی لحاظ سے بڑھے ہوئے اور اسی طرح کمزور لوگ جو ہیں وہ بھی کھڑے ہوں گے تو کمزوروں پر نیکیوں کا اثر پڑے گا اور ان میں بھی نیکیوں میں بڑھنے اور ترقی کرنے اور روحانیت کے بڑھانے کی قوت بڑھے گی اور جب یہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور جب روحانیت بڑھتی ہے تو پھر شیطانی