خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 28
خطبات مسرور جلد 15 28 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017ء بمطابق 20 صلح 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں پر نماز فرض ہے۔قرآن کریم میں متعدد جگہ نماز کی اہمیت مختلف حوالوں سے بیان کر کے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے۔(ماخوذ از سنن الترمذى كتاب الدعوات باب ماجاء في فضل الدعاء حديث 3371) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو کفر اور شرک کے قریب کر دیتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة حديث 149) پھر آپ نے نماز کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔اگر تو یہ حساب ٹھیک رہاتو کامیاب ہو گیا اور نجات پالی ور نہ گھاٹا پایا، نقصان اٹھایا۔(سنن الترمذی ابواب الصلاة باب ماجاء ان اول ما يحاسب۔۔۔حديث (413) پھر بچوں کو بھی نماز کا پابند بنانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ سات سال کی عمر کو پہنچنے پر بچے کو نماز کی تلقین کرو اور دس سال کی عمر میں اس کو نماز کا پابند کرنے کے لئے کوئی سختی بھی کرنی پڑے تو کرو۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلوة باب متى يؤمر الغلام بالصلاة حديث 495) اگر ماں باپ ہی نمازوں کے پابند نہ ہوں گے تو بچوں کو کس طرح کہہ سکتے ہیں یا اگر بچے اپنے اجلاسوں یا مختلف ذریعوں سے یہ حدیث سن لیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن لیں لیکن گھر میں وہ اپنے باپوں کو نمازوں کا پابند نہ دیکھیں تو ان پر کیا اثر ہو گا؟ یقیناً ایسے باپوں کے بچے یہ خیال کریں گے کہ اس حکم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔بلکہ ایک حکم کی اہمیت کو نظر انداز کرنے سے بچے کے دل پر ہر اسلامی حکم کی اہمیت کا اثر ختم ہو جائے گا۔ایسے لوگ نہ صرف پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خود گھاٹا پانے والوں میں شامل ہو رہے