خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 536 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 536

خطبات مسرور جلد 15 536 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 ان کو اللہ تعالیٰ کس طرح ان تجربات سے گزارتا ہے۔کس طرح برکات سے نوازتا ہے۔ایک اور مثال بھی ہے۔کانگو برازاویل میں ایک نو مبایع احمدی داؤد صاحب ہیں۔یہ بھی افریقہ کا ملک ہے۔ان کے تنگ مالی حالات کے پیش نظر ان کو کہا گیا کہ کم از کم ہر جمعہ احمدیہ مسجد میں ادا کرنے آیا کریں۔جب وہ جمعہ پر باقاعدہ ہوئے تو پھر ایک دن جمعہ کے بعد انہیں علیحدہ ملاقات میں مالی قربانی کی اہمیت کا بتایا اور کہا کہ جو کچھ بھی خدا تعالیٰ آپ کو دے اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور اس کی راہ میں دیں۔جو کچھ آپ خدا کی راہ میں دیں گے وہ اس سے بڑھ کر لوٹائے گا۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے پاک کمائی اگر ادا کرو گے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے تو تمہیں لوٹاؤں گا۔ان کو یہ کہا گیا کہ اس طرح آپ کے تنگ مالی حالات فراخی میں بدل جائیں گے۔یہ کہہ کر وہ مبلغ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ان کو واپسی کا کرایہ بھی دیا اور رخصت کر دیا۔ایک ہفتے کے بعد جمعہ کے لئے آئے تو جمعہ کے بعد بہت خوش نظر آرہے تھے۔وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ آپ نے گزشتہ جمعہ کو چندوں کی جو تحریک کی تھی تو مسجد سے جانے سے قبل میں نے سو فرانک سیفا چندے کی مد میں ادا کئے تھے۔چندہ دینے کے بعد میں جیسے ہی گھر پہنچا تو ایک پڑوسی دوست جنہوں نے کچھ مہینوں سے تھوڑی سی جلانے والی لکڑی ہمارے صحن میں رکھی ہوئی تھی وہ اچانک لکڑی لینے کے لئے آگئے اور جاتے ہوئے چار ہزار فرانک سیفا میرے ہاتھ میں تھما گئے۔مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ابھی تو میں چندہ دے کر گھر پہنچا ہی تھا تو ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے چالیس گنا بڑھا کر عطا کر دیا۔اسی طرح تنزانیہ کے امیر صاحب نے لکھا کہ ایک نو مبایع عبید کوئی صاحب بیان کرتے ہیں کہ راجگیری میرا پیشہ ہے اور عرصہ پانچ مہینے سے کوئی خاص کام نہیں مل رہا تھا۔بڑے مشکل حالات تھے۔بیوی بچے بھی مشکل سے رہ رہے تھے۔بڑا مشکل سے گزارہ ہو رہا تھا۔ایک دن معلم نے چندہ کی تحریک کی۔کہتے ہیں اس وقت مجھے اور زیادہ پریشانی ہوئی کیونکہ جور تم میرے پاس تھی وہ صرف اتنی تھی کہ اس دن کے لئے بیوی بچوں کا بند وبست ہو سکتا تھا۔جب معلم صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے سے اللہ تعالی برکت ڈالتا ہے تو میں نے فیصلہ کیا کہ یہ رقم چندے میں دے دیتا ہوں۔چنانچہ ایسا ہی کیا اور اس کے بعد مجھے یہ خیال آیا کہ آج میرے بچے کیا کھائیں گے ؟ میں یہی سوچ رہا تھا۔ابھی کچھ دیر گزری تھی کہ مجھے یہ پیغام ملا کہ کہیں پر تعمیر کا کام ہو رہا ہے میں فور وہاں جا کر پیمائش وغیرہ کر لوں۔اس کے ساتھ ہی مجھے اجرت کے طور پر ایڈوانس میں کچھ رقم بھی دی گئی۔میں بڑا حیران ہوا کہ پانچ ماہ سے میں مشکل میں دو چار تھا اور جو نبی اللہ کی راہ میں دیا اس کی طرف سے برکتوں کے دروازے کھل گئے۔چنانچہ اس دن سے جب میں نے اللہ کی راہ میں دیا۔میرے حالات اب بدل گئے ہیں۔اب کبھی میں چندہ ترک نہیں کروں گا۔یہ نو مبایعین کو بھی اللہ تعالیٰ ان تجربات سے گزارتا ہے۔مالی افریقہ کا ایک اور ملک ہے۔وہاں ایک صاحب لا سینا(Lassina) صاحب ہیں۔ان کو تین چار سال