خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 535

خطبات مسرور جلد 15 535 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 ہیں۔جب وہ قرآن اور حدیث میں اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات پڑھتے ہیں تو اس بات پر ان کو یقین بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کے اموال اور نفوس میں برکت کا بھی فرمایا ہے۔جب انسان اپنی پیاری ترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں اس کو بڑھا کر دیتا ہوں اور سات سو گنا تک بھی دے سکتا ہوں اور اس سے زیادہ بھی دے سکتا ہوں۔تو جب احمدی یہ قربانی کرتے ہیں اور جب احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق خرچ کرتے ہیں تو ان کو یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑھا کر دے گا اور ہمارے سے بھی یہ سلوک کرے گا۔جس میں آپ نے فرمایا کہ : " جس نے ایک کھجور بھی پاک کمائی میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دی اور اللہ تعالی پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے۔" یہ بڑی ضروری چیز یاد رکھنے والی ہے۔دھو کے سے کمائی ہوئی کمائی اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ پاک کمائی قبول کرتا ہے۔اور فرمایا کہ " جس نے پاک کمائی اللہ تعالیٰ کی راہ میں دی تو اللہ تعالیٰ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا " چاہے وہ کھجور کے برابر ہی کمائی ہو " اور اسے بڑھاتا جائے گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہو جائے گی۔" فرمایا کہ " جیسے تم میں سے کوئی اپنے چھوٹے سے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے اور اسے بڑا جانور بنا دیتا ہے۔" (صحيح البخاري كتاب الزكاة باب الصدقة من كسب طيب۔۔۔الخ حدیث 1410) اب اس زمانے میں جب ہم یہ پڑھتے ہیں یہ باتیں سنتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنتے ہیں تو یہ کوئی پرانے قصے کہانیاں نہیں ہیں۔بلکہ آج بھی قربانیاں کرنے والوں کو ذاتی تجربات ہوتے ہیں اور پھر جو وہ قربانیاں کرتے ہیں تو یہ بات ان کے وسائل میں بھی وسعت پیدا کرتی ہے اور ان کے ایمان میں بھی اضافہ کرتی ہے۔چنانچہ چند ایک واقعات میں بیان کرتا ہوں۔کیمرون افریقہ کا ایک ملک ہے وہاں کے مبلغ انچارج کہتے ہیں کہ وہاں کے ایک معلم ابو بکر صاحب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک احمدی نے جو پچھلے سال بیروز گار تھے۔عبد اللہ ان کا نام ہے اور اتنے برے حالات تھے کہ اپنے فیملی کو سنبھالنا بھی ان کے لئے مشکل تھا۔اس حالت میں وہ ایک دن نماز جمعہ پہ آئے۔نماز جمعہ کے بعد جب سیکرٹری صاحب نے تحریک جدید کے لئے اعلان کیا تو عبد اللہ صاحب کے پاس جیب میں دس ہزار فرانک سیفا تھے انہوں نے اعلان سنتے ہی ساری رقم تحریک جدید کے لئے دے دی۔کچھ دنوں کے بعد دوبارہ سینٹر میں آئے تو کہنے لگے کہ خدا تعالیٰ نے میر اچندہ قبول کر لیا اور ایک ہفتے کے اندر ایک پرائیویٹ کمپنی نے مجھے کام دیا ہے اور میری تنخواہ ایک لاکھ فرانک سیفا مقرر ہوئی ہے جو میرے چندے سے دس گنا زیادہ ہے اور ہر ماہ مجھے ملے گی۔یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔کہتے ہیں کہ اس لئے اب میں پہلے ماہ کی تنخواہ بھی جماعت کو چندہ میں دیتا ہوں۔اب یہ غریب لوگ ہیں۔