خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 537
خطبات مسرور جلد 15 537 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 پہلے بیعت کی توفیق ملی۔انہوں نے اپنی معمولی آمد سے پانچ سو فرانک سیفا چندہ دے دیا اور کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں شمولیت اور چندہ جات کی ادائیگی سے پہلے کاروبار ٹھیک نہیں تھا۔لیکن چندے کی برکت سے کاروبار میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت ڈالی ہے اور اب اللہ کے فضل سے وہ موصی بھی ہیں ( پہلے انہوں نے تحریک جدید میں پانچ سو چندہ دیا تھا) اور اب اس وقت وہ پانچ سو کی بجائے پینتیس ہزار فرانک سیفاماہوار چندہ ادا کرتے ہیں اور ان کے غیر احمدی دوست ان کے کاروبار میں اضافہ کو دیکھ کے سمجھتے ہیں کہ شاید جماعت ان کی مالی مدد کر رہی ہے۔فرانس سے ایک نو مبایع حمزہ صاحب لکھتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد جب مجھے جماعت میں چندے کے نظام کا پتا چلا تو اس وقت میرے مالی حالات بہت کمزور تھے۔میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔مجھے بعض احمدی دوستوں نے بتایا کہ چندے میں بڑی برکت ہے۔خدا تعالیٰ اس کے بدلے میں کئی گنا بڑھا کر لوٹا دیتا ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ میرے پاس ساٹھ یورو تھے۔میں نے سوچا کہ اللہ کی راہ میں چندہ دیتا ہوں۔باقی جو ہو گا دیکھا جائے گا۔کہتے ہیں ابھی چندہ دیئے ہوئے چند دن ہی گزرے تھے کہ میری بینک سٹیٹمنٹ گھر پر آئی تو میں نے دیکھا کہ میرے اکاؤنٹ میں کہیں سے چھ سو یورو آئے ہوئے ہیں۔پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ حکومت نے میرے چھ سو یورو دینے تھے جو پہلے ان کے ریکارڈ میں نہیں تھے۔اس طرح جو ر تم میں نے چندے میں دی تھی اللہ تعالیٰ نے کئی گنا بڑھا کر مجھے واپس کر دی جس کا مجھے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔تنزانیہ کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ احمد ثانی صاحب Dodoma ریجن سے تعلق رکھتے ہیں اور موصی بھی ہیں۔انہوں نے اپنا وعدہ پچاس ہزار شلنگ لکھوایا ہوا تھا جو بہت پہلے پورا ادا کر دیا تھا۔پھر گزشتہ ماہ انہوں نے خواب میں مجھے دیکھا کہ میں ان کے گھر گیا ہوں اور میں نے ان سے پوچھا کہ زمین سے سونا نکالنے کا کام آپ کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جی حضور۔لیکن یہ کام ٹھیک نہیں چل رہا۔کہتے ہیں کہ پھر میں نے ان کی طرف دیکھا اور ساتھ ہی کہیں سے یہ آواز آئی کہ تحریک جدید کا چندہ بڑھاؤ۔ثانی صاحب جو ہیں یہ حکمت کا، دیسی دوائیوں کا بھی کام کرتے ہیں۔بڑے ماہر ہیں۔تو یہ کہتے ہیں کہ اس خواب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں غیر معمولی برکت ڈالی اور گزشتہ ایک ماہ سے دور دور سے ان کے پاس مریض آنے لگے اور آمد میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگا اور کہتے ہیں اس خواب کے بعد گزشتہ ایک ماہ میں انہوں نے مزید چار لاکھ ستائیس ہزار شلنگ سے زیادہ تحریک جدید کا چندہ ادا کیا اور اپنے ریجن میں اب وہ سب سے زیادہ چندہ ادا کرنے والے ہیں۔انڈیا بنگلور کے ایک مخلص نوجوان بے روز گار تھے اور نوکری نہ ہونے کی وجہ سے گھر کی ماہوار قسط بھی ادا نہیں کر سک رہے تھے۔تحریک جدید کے انسپکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کے گھر گیا لیکن جب سیکرٹری نے مجھے ان کے حالات بتائے تو میں خاموش ہو گیا اور کوئی بات نہیں کی۔لیکن موصوف نے خود ہی مجھے پوچھا آپ مجھے کچھ کہنا