خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 534
خطبات مسرور جلد 15 534 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 کے فضل سے احمدی ہی کرتے ہیں۔آج دنیا تو مال و دولت سمیٹنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔احمدیوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو پیسہ کماتے ہیں دولت کماتے ہیں اور جب انہیں مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ اپنا مال پیش کرتے ہیں۔اور یہ سب کچھ اس مسلسل تربیت کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری فرمائی ہے۔مختلف موقعوں پر مختلف پیرائے میں اور مختلف نصائح کے ساتھ آپ نے ہمیں قربانیوں کی نصیحت فرمائی۔چنانچہ ایک موقع پر مالی قربانی کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اسی واسطے علم تعبیر الرؤیا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے "خواب میں دیکھے " کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لئے فرمایا۔لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مَا تُحِبُّونَ (آل عمران: 93) حقیقی نیکی کو ہر گز نہ پاؤ گے جب تک کہ تم عزیز ترین چیز خرچ نہ کرو گے۔کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے۔"حقوق العباد ادا کرنے کے لئے یہ فرمایا کہ حق العباد کے لئے اس کا بہت بڑا حصہ ، اس کی ضرورت مال کی ضرورت ہے۔فرماتے ہیں کہ " اور ابنائے جنس اور مخلوق خدا کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بدوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔" حقوق العباد بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔اس کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو تا۔مضبوط نہیں ہوتا۔پکا نہیں ہو تا۔فرمایا کہ "جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیو نکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شئے ہے " اور اس آیت میں لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔" یعنی وہ کسوٹی ہے جس سے تقویٰ کو پر کھا جاتا ہے۔فرمایا کہ " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں للہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی الیم نے " دین کے لئے " ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 95-96) پس یہ وہ اعلیٰ ترین معیار ہے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم فرمایا اور آپ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم فرمایا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر گھر کا گل سامان لے کر آگئے۔حضرت عمر گھر کا نصف سامان لے کر آگئے اور اسی طرح باقی صحابہ بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق قربانیاں دیتے رہے۔اور یہی وہ روح اور معیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ مثالیں دے کر ہم میں پیدا کرنا (ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 95) چاہتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ بہت سے احمدی ہیں جو قربانیوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے