خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 533 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 533

خطبات مسرور جلد 15 533 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 03 نومبر 2017ء بمطابق 03 / نبوت 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مَا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيْمٌ (آل عمران: 93) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ تم ہر گز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وہ مضمون بیان فرمایا ہے جسے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والے مومنین نے ہی بہتر رنگ میں سمجھا ہے۔اس کا سب سے بڑھ کر اظہار تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کیا جنہوں نے اپنا مال، اپنی جان ، اپنا وقت دین کے لئے قربان کیا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے "اکبر" کی حقیقت کو سمجھا۔یعنی نیکی کے اس معیار کو سمجھا اور حاصل کرنے کی کوشش کی جو نیکیوں کا اعلیٰ ترین معیار تھا۔جو تقویٰ کا اعلیٰ معیار تھا۔جو اخلاق کا اعلیٰ معیار تھا۔جو مالی قربانی کرنے کا اعلیٰ معیار تھا۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا اعلیٰ معیار تھا۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! میرا ایک باغ ہے جو بیر حاء کے نام سے جانا جاتا ہے اور مسجد نبوی کے قریب ہی وہ باغ تھا۔انہوں نے عرض کی کہ مجھے اپنی جائیدادوں میں سے سب سے زیادہ پیارا یہی باغ ہے۔آج میں اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔(صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب لن تنالوا البر۔۔۔الخ حديث 4554) تو یہ معیار تھے صحابہ کے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر قسم کی قربانیوں کا سب سے زیادہ ادراک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو ماننے والوں کو ہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ عملی اظہار بھی اللہ تعالیٰ