خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 531
خطبات مسرور جلد 15 531 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 ان کے ساتھیوں نے یہی لکھا ہے کہ بڑے ہنس مکھ تھے۔بے تکلف تھے۔ذہین بھی تھے۔مزاح کی حس رکھنے والے تھے۔بڑوں کا اور اپنے ساتھیوں کا ادب و احترام کرنے والے تھے۔اطاعت اور فرمانبر داری کی روح ان میں بہت زیادہ تھی اور بے نفس انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ علی سعیدی موسیٰ صاحب سابق امیر جماعت تنزانیہ کا ہے جو 30 ستمبر کو 67 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔1950ء کو چٹانڈی (Chitandi) تنزانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔پھر انہوں نے 1980ء میں دارالسلام یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔اکنامکس میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔پھر 1980ء میں ایگریکلچرل اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔مختلف حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ان کو قرآن کریم کا پاؤ (Ya0) زبان میں ترجمہ کرنے کا ارشاد فرمایا تھا لیکن اپنی حکومتی مصروفیات کی وجہ سے اور دیگر کاموں کی وجہ سے انہوں نے بڑی دیر لگا دی جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے فرمایا کہ اس رفتار سے ترجمہ میں کم از کم تیس سال لگ جائیں گے اور بڑا فکر کا اظہار کیا۔بہر حال یہ ارشاد سن کر علی سعیدی صاحب بڑے جذباتی ہوئے اور انہوں نے عہد کیا کہ میں جلدی قرآن کریم کا ترجمہ کروں گا۔چنانچہ انہوں نے اپنے سارے کام چھوڑ کے ساری توجہ قرآن کریم کے ترجمہ پر دی اور پانچ سال میں یہ ترجمہ مکمل کر لیا۔2006ء میں تنزانیہ کی جماعت کا امیر مقرر کیا گیا اور برونڈی اور موزمبیق اور ملاوی کی جماعتیں بھی آپ کی نگرانی میں تھیں۔ان کی امارت میں جماعت نے وہاں سیکنڈری سکول کا اجراء بھی کیا اور جماعت نے ایک بڑا رقبہ زمین کا بھی حاصل کیا۔بڑے مخلص فدائی اور باوفانیک انسان تھے۔خلافت سے گہرا اور عقیدت کا تعلق تھا۔اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور تین بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کے درجات بلند فرمائے۔اور تیسر ا جنازہ مکرمہ نصرت بیگم صادقہ صاحبہ گر مولہ ورکاں حال ربوہ کا ہے جو 16 اور 17 / اکتوبر کی درمیانی شب طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ مومن طاہر صاحب جو ہمارے عربی ڈیسک کے انچارج ہیں ان کی والدہ تھیں۔ان کا سب سے نمایاں وصف توحید سے بے پناہ محبت اور شرک و بدعت سے شدید نفرت تھی۔تو کل اور غرباء پروری، اپنی نیکی کو چھپانا، بڑی عاجزی انکساری والی طبیعت تھی۔ان کے دادا حضرت میاں عطاء اللہ صاحب صحابی تھے اور مولانا برہان الدین صاحب کے ذریعہ سے انہوں نے قادیان آکر بیعت کی تھی۔قرآن کریم پڑھانے کا ان کو بہت شوق تھا۔درست پڑھنے اور پڑھانے کا شوق تھا۔