خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 530
خطبات مسرور جلد 15 530 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 سے نوع انسان کی ہمدردی کا نام ایتاء ذی القربی ہے اور اس ترتیب سے خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر تم پورا نیک بننا چاہتے ہو تو اپنی نیکی کو ایتاء ذی القربی۔یعنی طبعی درجہ تک پہنچاؤ۔جب تک کوئی شئے ترقی کرتی کرتی اپنے اس طبعی مرکز تک نہیں پہنچتی تب تک وہ کمال کا درجہ حاصل نہیں کرتی۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 283 حاشیہ) فرمایا کہ " یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نیکی کو بہت پسند کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق سے ہمدردی کی جاوے۔اگر وہ بدی کو پسند کرتا تو بدی کی تاکید کرتا مگر اللہ تعالیٰ کی شان اس سے پاک ہے۔(سبحانہ تعالیٰ شانہ۔)" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 284) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ نیکیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بجالانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُات کا جو مطمح نظر ، جو ٹارگٹ ہمارے لئے مقرر فرمایا ہے اسے ہم حاصل کرنے والے ہوں۔نماز کے بعد میں چند جنازے غائب پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ جو ہے وہ مکرم حامد مقصود عاطف صاحب مربی سلسلہ ابن مکرم محترم پروفیسر مسعود احمد عاطف صاحب کا ہے جو 22 / اکتوبر کو گردے فیل ہونے کی وجہ سے طاہر ہارٹ ربوہ میں 48 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت عبد الرحیم درد صاحب کے نواسے تھے۔آپ کے والد پروفیسر مسعود احمد عاطف تھے جنہیں 1955ء سے لے کر 86 ء تک تعلیم الاسلام کالج میں فزکس پڑھانے کا بھی موقع ملا۔یہ مقصود عاطف صاحب مسعود عاطف صاحب کے بیٹے تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم تو ربوہ میں حاصل کی۔پھر زندگی وقف کی جامعہ میں داخل ہوئے۔1991ء میں شاہد پاس کیا۔پہلے تو ان کی خواہش تھی کہ فوج میں جائیں لیکن پھر ایک خواب کی بناء پر انہوں نے کالج چھوڑ کر جامعہ میں داخلہ لیا اور وہاں سے شاہد کی ڈگری حاصل کر کے مربی بن کے نکلے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے اور تینوں بچے ان کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔چھوٹا بیٹا واصف حامد مدرستہ الحفظ میں قرآن کریم حفظ کر رہا ہے۔مقصود عاطف صاحب 1991ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے۔پھر پاکستان میں مختلف شہروں میں ان کی تقرری ہوئی۔اس کے بعد فرینچ زبان سیکھنے کے لئے انہوں نے اسلام آباد میں نمل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پھر مئی 1997ء میں آئیوری کوسٹ میں ان کو بطور مبلغ بھجوایا گیا۔2002ء تک آئیوری کوسٹ میں خدمت کی توفیق پائی۔پھر 2016ء تک برکینا فاسو میں خدمت کی توفیق پائی اور پھر گردے کی تکلیف کی وجہ سے واپس پاکستان بلالئے گئے۔آپ کی اہلیہ کہتی ہیں کہ جب میں آئیوری کوسٹ گئی ہوں تو بڑی محنت سے مجھے فریج سکھائی تا کہ میرے روز مرہ کے معمولات اور لوگوں سے ڈیلنگ (dealing) آسان رہے اور لجنہ کی تربیت میں بھی ممد ثابت ہو۔اکثر لکھنے والے