خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 529
خطبات مسرور جلد 15 529 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 نیکی کے دائرے کو کس قدر وسیع کرنا چاہئے ؟ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آجکل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرو۔نہیں۔میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالی کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ وہ کوئی ہو۔ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔ان میں بعض اس قسم کے خیالات بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایک شیرے کے مٹکے میں ہاتھ ڈالا جاوے اور پھر اس کو تلوں میں ڈال کر تیل لگائے جاویں تو جس قدر تل اس کو لگ جاویں اس قدر دھو کہ اور فریب دوسرے لوگوں کو دے سکتے ہیں۔" یہ بعض غیر احمدیوں کے نظریے ہیں کہ شیر ایا شہد کوئی میٹھی چیز لیں۔ہاتھ ڈالو باہر نکالو باہر نکال کے تلوں کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالو اور جتنے تل ہاتھ کے ساتھ لگ جائیں اتنا تم دھوکہ دے سکتے ہو۔اتنا دھو کہ دینا جائز ہے۔اتنے لوگوں کے حقوق غصب کرنا جائز ہیں۔فرمایا کہ یہ سب چیزیں انتہائی گناہ ہیں۔یہ بالکل جائز نہیں۔فرمایا کہ " ان کی ایسی بیہودہ اور خیالی باتوں نے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے اور ان کو قریباً وحشی اور درندہ بنا دیا ہے۔" یہی آجکل مسلمانوں کی حالت ہے۔مگر میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہر گز ہر گز اپنی ہمدردی کے دائرے کو محدود نہ کرو اور ہمدردی کے لئے اُس تعلیم کی پیروی کر وجو اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔یعنی إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَائِ ذِي الْقُرْبى (النحل: 91) یعنی اول نیکی کرنے میں تم عدل کو ملحوظ رکھو۔جو شخص تم سے نیکی کرے تم بھی اس کے ساتھ نیکی کرو۔اور پھر دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اس سے بھی بڑھ کر اس سے سلوک کرو۔یہ احسان ہے۔احسان کا درجہ اگر چہ عدل سے بڑھا ہوا ہے اور یہ بڑی بھاری نیکی ہے لیکن کبھی نہ کبھی ممکن ہے احسان والا اپنا احسان جتلا دے۔مگر ان سب سے بڑھ کر ایک درجہ ہے کہ انسان ایسے طور پر نیکی کرے جو محبت ذاتی کے رنگ میں ہو جس میں احسان نمائی کا بھی کوئی حصہ نہیں ہوتا ہے۔جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے۔وہ اس پرورش میں کسی اجر اور صلے کی خواستگار نہیں ہوتی بلکہ ایک طبعی جوش ہوتا ہے جو بچے کے لئے اپنے سارے سکھ اور آرام قربان کر دیتی ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی بادشاہ کسی ماں کو حکم دے دے کہ تو اپنے بچہ کو دودھ مت پلا اور اگر ایسا کرنے سے بچہ ضائع بھی ہو جاوے تو اس کو کوئی سزا نہیں ہو گی۔تو کیا ماں ایسا حکم سن کر خوش ہو گی ؟ اور اس کی تعمیل کرے گی ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ وہ تو اپنے دل میں ایسے بادشاہ کو کوسے گی کہ کیوں اس نے ایسا حکم دیا۔پس اس طریق پر نیکی ہو کہ اسے طبعی مرتبہ تک پہنچایا جاوے کیونکہ جب کوئی شئے ترقی کرتے کرتے اپنے طبعی کمال تک پہنچ جاتی ہے اُس وقت وہ کامل ہوتی ہے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 282-283) پس نیکیاں ایسی ہوں کہ دل سے ہر وقت نیکیوں کا خیال آتا ر ہے۔آپ نے فرمایا کہ " طبعی جوش