خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 528
خطبات مسرور جلد 15 528 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 (ملفوظات جلد 4 صفحہ 375) ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے کھاتا ہے۔اسی طرح اگر ایک صالح بھی کرے تو خدا کی راہیں اس پر نہیں کھلتیں۔" ایک بد قماش آدمی تو دنیاوی نظر سے کھاتا پیتا اور وہ دنیا داری کے سب کام کر رہا ہوتا ہے لیکن ایک صالح آدمی نہیں۔اگر وہ اس طرح کرے گا تو پھر خدا کی راہیں اس پہ نہیں کھلیں گی۔فرمایا کہ " جو خدا کے لئے قدم اٹھاتا ہے خدا کو ضرور اس کا پاس ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9) " فرمایا کہ "تنغم اور کھانے پینے میں بھی اعتدال کرنے کا نام تقویٰ ہے۔صرف یہی گناہ نہیں ہے کہ انسان زنانہ کرے۔چوری نہ کرے۔بلکہ جائز امور میں حد اعتدال سے نہ بڑھے۔" جو جائز چیزیں ہیں ان میں اعتدال رکھنا یہ بھی تقویٰ ہے اور یہ بھی نیکی ہے۔اپنی تعلیم کے اس حصہ کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ حکام کے ساتھ نیکی کیا ہے؟ اور عام تعلقات اور جو عزیزوں سے تعلقات ہیں اس میں نیکی کیا ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ "ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ سب سے نیک سلوک کرو۔حکام کی سچی اطاعت کرنی چاہئے کیونکہ وہ حفاظت کرتے ہیں۔" حکومت اور گورنمنٹ کی بھی اطاعت کرنی چاہئے کیونکہ وہ اپنے شہریوں کے صحیح طرح فرائض ادا کر رہے ہیں۔فرمایا کہ " جان اور مال ان کے ذریعہ امن میں ہیں اور برادری کے ساتھ بھی نیک سلوک اور برتاؤ کرنا چاہئے کیونکہ برادری کے بھی حقوق ہیں۔" فرمایا " البتہ جو متقی نہیں اور بدعات و شرک میں گر فتار ہیں اور ہمارے مخالف ہیں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔" نیک برتاؤ کرنا ہے کرو۔لیکن نیکی کا یہ مطلب نہیں کہ جو ہمارے مخالف ہیں اور ہمارے پہ فتوے لگانے والے ہیں، بدعات میں گرفتار ہیں ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے لگ جاؤ۔وہ نہیں پڑھنیں۔فرمایا کہ " تاہم ان سے نیک سلوک کرناضر ور چاہئے۔" لیکن نیک سلوک ان سے بہر حال کرنا ہے۔جتنے مرضی ہمارے مخالف ہوں۔فرمایا کہ " ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو۔جو دنیا میں کسی سے نیکی نہیں کر سکتا وہ آخرت میں کیا اجر لے گا۔اس لئے سب کے لئے نیک اندیش ہونا چاہئے۔ہاں مذہبی امور میں اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔جس طرح پر طبیب ہر مریض کی خواہ ہندو ہو یاعیسائی یا کوئی ہو سب کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔اسی طرح پر نیکی کرنے میں عام اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔" فرمایا " اگر کوئی یہ کہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کفار کو قتل کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی شرارتوں اور ایذا رسانیوں سے بسبب بلا وجہ قتل کرنے مسلمانوں کے مجرم ہو چکے تھے۔"مسلمانوں کو قتل کرتے تھے۔ان پر ظلم کرتے تھے۔ان کی سزا کے طور پر ان کو سزادی گئی " ان کو جو سزاملی مجرم ہونے کی حیثیت سے تھی۔" اس لئے نہیں تھی کہ انہوں نے انکار کیا۔" محض انکار اگر سادگی سے ہو اور اس کے ساتھ شرارت اور ایذارسانی نہ ہو تو وہ اس دنیا میں عذاب کا موجب نہیں ہو تا۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 319-320)