خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 527 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 527

خطبات مسرور جلد 15 527 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 نام دین پر بڑھاتا ہے ورنہ یہ لذات دنیا کی اس واسطے ہیں کہ اس کے ذریعہ نفس کا گھوڑا جو کہ دنیا کی راہ میں ہے کمزور نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے میں لذات دی ہیں لیکن اس لئے کہ ان سے انسان میں طاقت پیدا ہو اور انسان اللہ تعالیٰ کے جو فرائض ہیں وہ بھی ادا کر سکے۔کھاتے ہوئے یہ بھی نظریہ ہونا چاہئے کہ صحت کمزور نہ ہو۔فرمایا کہ "اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ یکہ والے جب لمبا سفر کرتے ہیں تو سات یا آٹھ کوس کے بعد وہ گھوڑے کی کمزوری کو محسوس کر کے اسے دَم دلا دیتے ہیں " ٹھہر جاتے ہیں " اور نہاری وغیرہ کھلاتے ہیں تا کہ اس کی پچھلی تھکان دور ہو جاوے تو " فرمایا کہ " انبیاء نے جو حظ دنیا کا لیا ہے وہ اسی طرح ہے۔" انبیاء بھی کھاتے پیتے ہیں۔جو دنیاوی چیزیں ہیں اس سے ان کو بھی حفظ ملتا ہے۔سکون ملتا ہے۔شادی بیاہ ہے۔اولاد ہے۔کھانا پینا ہے دنیاوی چیز میں ہیں۔یہ سب چیزیں انبیاء بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔فرمایا کہ انہوں نے جو حظ دنیا کا لیا ہے وہ اسی طرح کا ہے " کیونکہ ایک بڑا کام دنیا کی اصلاح کا ان کے سپر د تھا۔اگر خدا کا فضل ان کی دستگیری نہ کر تا تو ہلاک ہو جاتے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 374-375) تو جس طرح ایک گھوڑے والا ، ٹانگے والا اپنے گھوڑے کو تازہ دم رکھنے کے لئے کھلاتا پلاتا ہے اسی طرح جو انبیاء ہیں وہ اگر کھاتے پیتے ہیں یا اچھی چیزیں استعمال کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ دنیا کی اصلاح کی طرف توجہ ہو۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کسی نے اعتراض کیا اور حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پلاؤ بھی کھالیتے ہیں ؟ اعتراض کرنے والے نے کہا سنا ہے مرزا صاحب پلاؤ کھاتے ہیں ؟ حضرت خلیفہ اول نے کہا کہ میں نے تو کہیں نہیں پڑھا، نہ قرآن میں نہ حدیث میں کہ اچھا کھانا کھانا نبیوں کو جائز نہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ( جلد 5 صفحہ 48 روایات حضرت نظام الدین صاحب ٹیل ) کھاتے ہیں تو کیا ہو گیا۔تو اس قسم کے بھی لوگوں کے اعتراض ہوتے رہتے ہیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف کڑوے کھانے کھانا ہی بڑی بزرگی ہے۔حالانکہ یہ غلط ہے۔اسی سنت پہ ہمیں چلنا چاہئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے پیش فرمائی۔آپ نے ایک صحابی کو فرمایا تھا میں اچھا کھانا بھی کھاتا ہوں۔میں اچھے کپڑے بھی پہنتا ہوں۔میں نے شادیاں بھی کی ہیں۔میری اولاد بھی ہے۔میں سوتا بھی ہوں۔میں عبادت بھی کرتا ہوں۔پس یہ میری سنت ہے جس پر تمہیں چلنا چاہئے۔(تفسیر الدرالمنثور جلد 3 صفحہ 131 تفسير سورة المائدة78تا 88 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 2001ء) بہر حال آگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " انبیاء کا یہ دستور نہ تھا کہ اس میں ہی منہمک ہو جاتے۔" یعنی دنیاوی چیزوں میں منہمک نہیں ہوتے۔" انہماک بیشک ایک زہر ہے۔ایک بد قماش آدمی جو کچھ چاہتا