خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 526
خطبات مسرور جلد 15 526 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 جب انسان ایمان میں بڑھتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر یقین میں بڑھتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے نیک اعمال بجالاتا ہے تو اللہ تعالی مزید نیکیوں کی بھی توفیق دیتا ہے اور نوازتا ہے۔چنانچہ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : اسلام کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہو جاتی ہے۔فرمایا کہ مجھے یاد آیا تذکرۃ الاولیاء میں میں نے پڑھا تھا کہ ایک آتش پرست بڑھا نوے برس کی عمر کا تھا۔اتفاقاً بارش کی جھڑی جو لگ گئی تو وہ اس جھڑی میں کوٹھے پر چڑھ کے چڑیوں کے لئے دانے ڈال رہا تھا۔مسلسل کئی دن بارش ہوتی رہی۔وہ اپنی چھت پر چڑھ گیا اور وہاں جا کے چڑیوں کو ، پرندوں کو دانے ڈال رہا تھا۔کسی بزرگ نے قریب کوئی ہمسائے میں کوئی مسلمان بزرگ تھا اس نے پاس سے کہا کہ ارے بڑھے تو کیا کرتا ہے۔اس نے جواب دیا کہ بھائی چھ سات روز متواتر بارش ہوتی رہی ہے۔چڑیوں کو دانہ ڈالتا ہوں۔اس بزرگ نے کہا کہ تُو عبث حرکت کرتا ہے فضول۔اس کا تو تمہیں کوئی فائدہ نہیں۔تو کافر ہے۔تجھے اجر کہاں؟۔تجھے اس کا کیا اجر ملے گا۔تجھے کیا ثواب ملنا ہے۔تم تو کافر ہو۔بوڑھے نے جواب دیا مجھے اس کا اجر ضرور ملے گا۔اسے اللہ تعالیٰ کی ذات پر تو یقین تھا۔بہر حال اس کی ایک نیک فطرت تھی۔دل کی آواز تھی۔اس نے کہا مجھے اجر ملے گا۔وہ بزرگ صاحب فرماتے ہیں کہ میں حج کو گیا تو ڈور سے کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بڑھا طواف کر رہا ہے وہی چڑیوں کو دانہ ڈالنے والا جو آتش پرست تھاوہ حج پہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔اس کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور جب میں آگے بڑھا تو پہلے وہی بولا۔میں اس سے کوئی سوال کرتا پہلے وہ بولا کہ کیا میرا دانہ ڈالنا ضائع گیا یا اُن کا عوض ملا ؟ آج مسلمان ہو کے جو میں حج کر رہا ہوں یہ اجر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پرندوں کو دانہ ڈالنے کا دیا۔تو اللہ تعالیٰ اس طرح نواز تا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اب خیال کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کافر کی نیکی کا اجر بھی ضائع نہیں کیا تو کیا مسلمان کی نیکی کا اجر ضائع کر دے گا؟ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک صحابی کا ذکر یاد آیا کہ اس نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنے کفر کے زمانے میں بہت سے صدقات کئے ہیں۔کیا اُن کا اجر مجھے ملے گا؟ جب میں کافر تھا بڑے صدقات کیا کرتا تھا۔نیکیاں کرنے کی کوشش کرتا تھا مجھے اجر ملے گا۔آپ صلی الم نے فرمایا کہ وہی صدقات تو تیرے اسلام کا موجب ہو گئے ہیں۔ان صدقات کا ہی بدلہ تجھے ملا ہے جو تو آج مسلمان ہو گیا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 74-75) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ جائز چیزوں کو بھی حد اعتدال کے اندر رکھنا چاہئے اور یہی نیکی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : " نیکی کی جڑ یہ بھی ہے کہ دنیا کی لذات اور شہوات جو کہ جائز ہیں ان کو بھی حد اعتدال سے زیادہ نہ لے جیسا کہ کھانا پینا اللہ تعالیٰ نے حرام تو نہیں کیا مگر اب اسی کھانے پینے کو ایک شخص نے رات دن کا شغل بنالیا ہے اس کا