خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 525
خطبات مسرور جلد 15 525 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 پر ہی ناز نہ کرے اور اپنی ترقی کی انتہا اسی کو نہ سمجھ لے کہ کبھی کبھی اس کے اندر رفت پیدا ہو جاتی ہے۔" یہ کوئی بات نہیں کہ نماز میں کبھی کبھی رولئے۔رفت پیدا ہو گئی۔دل نرم ہو گیا۔اسی کو اپنی ترقی کی انتہا نہ سمجھو۔فرمایا کہ " یہ رفت عارضی ہوتی ہے۔" یہ رفت پیدا ہونے کی مثال آپ دیتے ہیں کہ " انسان اکثر دفعہ ناول پڑھتا ہے اور اس کے درد انگیز حصے پر پہنچ کر بے اختیار رو پڑتا ہے۔" بہت سارے لوگ ہیں جو ناول پڑھ رہے ہوتے ہیں اور رونے لگ جاتے ہیں۔اس میں بعض ایسی کہانیاں آجاتی ہیں قصے واقعات آجاتے ہیں۔فرمایا کہ " حالا نکہ وہ صاف جانتا ہے کہ یہ ایک جھوٹی اور فرضی کہانی ہے "لیکن اس کے باوجود وہ پڑھتا ہے۔" پس اگر محض رو پڑنا یا رفقت کا پیدا ہو جانا ہی حقیقی سرور اور لذت کی جڑ ہوتی ہے تو آج یورپ سے بڑھ کر کوئی بھی روحانی لذت حاصل کرنے والا نہ ہو تا کیونکہ یہاں تو ذرا ذراسی بات پر جذباتی ہو کر رونے لگ جاتے ہیں۔فرمایا " کیونکہ ہزار ہا ناول شائع ہوتے اور لاکھوں کروڑوں انسان پڑھ کر روتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 238 تا240) کہانیاں پڑھ کے روتے ہیں۔ڈرامے دیکھ کے رونے لگ جاتے ہیں۔بعض ویسے ہی اپنے اور دوسرے کے واقعات بیان کر رہے ہوتے ہیں اور بڑے جذباتی ہو جاتے ہیں تو یہ کوئی روحانیت کی ترقی نہیں ہے۔روحانیت کی ترقی تبھی ہے جب بدیوں سے پورے طور پر انسان بچے اور نیکیوں کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اختیار کرے۔پھر نیکیوں کے حصوں کی وضاحت آپ نے فرمائی۔پہلے دو پہلو تھے شر کو چھوڑنا اور نیکی کرنا اب اس کے دوحصے بیان فرمائے۔فرمایا کہ " انسان جس قدر نیکیاں کرتا ہے اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک فرائض۔دوسرے نوافل۔" دو حصے ہیں نیکی کے۔ایک فرض نیکی ہے۔ایک نفل نیکی ہے۔" فرائض یعنی جو انسان پر فرض کیا گیا ہو جیسے قرضہ کا اتارنا۔" فرمایا کسی سے قرض لیا تو قرضے کا اتارنا یہ انسان کا فرض ہے" یا نیکی کے مقابل نیکی" کرنا یہ تو فرض ہے " ان فرائض کے علاوہ ہر ایک نیکی کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔" جو زائد ہو وہ نیکی ہے " یعنی ایسی نیکی جو اس کے حق سے فاضل ہو۔جیسے احسان کے مقابل احسان کے علاوہ اور احسان کرنا۔یہ نوافل ہیں۔کسی نے احسان کیا اس کے احسان کا بدلہ اتارا بلکہ اس سے بڑھ کر اتارا تو یہ نفل ہو جائے گا۔یہ بطور مکملات اور متممات فرائض کے ہیں۔" ان سے فرائض مکمل ہوتے ہیں اور اپنی تکمیل کو پہنچتے ہیں۔حدیث بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " اولیاء اللہ کے دینی فرائض کی تکمیل نوافل سے ہو رہتی ہے۔" آپ نے حدیث بیان فرمائی تھی اس کی تفسیر فرما رہے ہیں کہ اولیاء اللہ جو ہیں ان کے دینی فرائض کی تکمیل نوافل سے ہوتی رہتی ہے۔"مثلاً زکوۃ کے علاوہ وہ اور صدقات دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسوں کا ولی ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی دوستی یہاں تک ہوتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ ، پاؤں وغیرہ " یہ حدیث میں آیا ہے کہ میں ان کے ہاتھ پاؤں وغیر ہ " حتی کہ اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔" (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 13-14)