خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 524

524 خطبات مسرور جلد 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 ذکر ہو چکا ہے کہ یہ کمزوریاں اس وقت ہوتی ہیں جب ایمان میں کمزوری ہو۔انسان اللہ تعالی کو علیم خبیر اور عالم الغیب اعتقادی طور پر تو سمجھتا ہے لیکن عملاً اس کی نفی ہو رہی ہوتی ہے اور اسی لئے بہت سی برائیاں انسان کر جاتا ہے اور بہت ساری نیکیوں کی اس کو ایمان نہ ہونے کی وجہ سے توفیق نہیں ملتی۔پھر اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کے بعد بدنی بدیوں سے بچنے کے ذریعہ کی بھی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " الغرض بدیوں سے بچنے کا مرحلہ تب طے ہوتا ہے جب خدا پر ایمان ہو۔پھر دوسرا مرحلہ یہ ہونا چاہئے کہ اُن راہوں کی تلاش کرے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں نے اختیار کیں۔" پہلے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور پھر ان راستوں کی تلاش، ان نیکیوں کی تلاش جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے، انبیاء صلحاء جو کرتے ہیں ان کو اختیار کرو۔" وہ ایک ہی راہ ہے جس پر جس قدر راستباز اور برگزیدہ انسان دنیا میں چل کر خدا تعالیٰ کے فیض سے فیضیاب ہوئے۔اس راہ کا پتا یوں لگتا ہے کہ انسان معلوم کرے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟" فرمایا کہ "پہلا مرحلہ بدیوں سے بچنے کا تو خدا تعالیٰ کی جلالی صفات کی تجلی سے حاصل ہوتا ہے کہ وہ بدکاروں کا دشمن ہے۔" اپنے قریبیوں کے دشمنوں کو ختم کرتا ہے اور فرمایا کہ " اور دوسرا مر تبہ خدا تعالیٰ کی جمالی تجلی سے ملتا ہے اور آخر یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالی کی طرف سے قوت اور طاقت نہ ملے جس کو اسلامی اصطلاح کے موافق روح القدس کہتے ہیں کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔یہ ایک قوت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔اس کے نزول کے ساتھ ہی دل میں ایک سکینت آتی ہے اور طبیعت میں نیکی کے ساتھ ایک محبت اور پیار پید اہو جاتا ہے۔اللہ تعالی کی جمالی تجلی ہوتی ہے تو ایک تو نیکی کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔بدی کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی اور پھر ایک سکینت دل میں پیدا ہوتی ہے۔یہ ہے نیک لوگوں کا عمل جو ہمارے سامنے نمونہ ہے جس کو آپ نے کہا ہے اس کو دیکھو۔انبیاء کے نمونے کو دیکھو۔فرمایا کہ " جس نیکی کو دوسرے لوگ بڑی مشقت اور بوجھ سمجھ کر کرتے ہیں یہ ایک لذت اور سرور کے ساتھ اس کو کرنے کی طرف دوڑتا ہے۔" یعنی جو اللہ تعالیٰ کا پیارا ہے۔" جیسے لذیذ چیز بچہ بھی شوق سے کھالیتا ہے اسی طرح جب خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جاتا ہے اور اس کی پاک روح اس پر اترتی ہے پھر نیکیاں ایک لذیذ اور خوشبو دار شربت کی طرح ہوتی ہیں۔وہ خوبصورتی جو نیکیوں کے اندر موجود ہے اس کو نظر آنے لگتی ہے اور بے اختیار ہو ہو کر ان کی طرف دوڑتا ہے۔بدی کے تصور سے بھی اس کی روح کانپ جاتی ہے " فرمایا کہ " یہ امور اس قسم کے ہیں کہ ہم ان کو الفاظ کے پیرایہ میں پورے طور سے ادا نہیں کر سکتے۔" ایک عجیب دل کی کیفیت ہوتی ہے دل کا سرور ہو تا ہے جن کو الفاظ کا جامہ پہنانا بہت مشکل ہے۔فرمایا کہ " کیونکہ یہ قلب کی حالتیں ہوتی ہیں" یہ دل ہی محسوس کر سکتا ہے۔"محسوس کرنے سے ہی ان کا ٹھیک پتا لگتا ہے۔اس وقت تازہ بتازہ انوار اس کو ملتے ہیں۔انسان صرف اس بات