خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 523

523 خطبات مسرور جلد 15 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 اور اندرونی اعضاء کاٹ دیئے جاتے ہیں۔اس کی ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اٹھا سکتا۔" فرمایا کہ " یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو۔" یہ ساری حالتیں اس وقت پیدا ہوں گی جب اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے فرمایا کہ "یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہئے۔یہ ٹارگٹ ہے ہمارا۔یہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ ہر قسم کی گندگی کو اپنے ذہنوں سے ، اپنے دماغوں سے، اپنی آنکھوں سے، اپنے کانوں سے نکالنا بھی ہے اور سننے سے بچنا بھی ہے۔فرمایا " اور ہماری جماعت کو اس کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمانِ کامل کی ضرورت ہے۔" فرمایا کہ " پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 244-245) یہ ہے وہ ٹارگٹ جو آپ نے ہمیں دیا کہ سچا ایمان حاصل ہو گا تو نیک اعمال بھی صادر ہوں گے اور تبھی فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات کے گروہ میں ہم شامل ہوں گے اور تبھی خَيْرُ الْبَرِيَّه میں ہمارا شمار ہو گا۔پھر نیکی کے پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: " انسان کے لئے دو باتیں ضروری ہیں۔بدی سے بچے اور نیکی کی طرف دوڑے۔اور نیکی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ایک ترک شر۔دوسرا افاضہ خیر۔" شر کو چھوڑنا ٹھیک ہے ایک نیکی ہے یہ ایک پہلو ہے اور دوسرا پہلو ہے نیکی کرنا۔فرمایا کہ "ترک شر سے انسان کامل نہیں بن سکتا۔"جب صرف ترک شر کرنا ہے تو یہ کامل نہیں ہے اس ایمان میں ابھی کمزوری ہے "جب تک اس کے ساتھ افاضہ خیر نہ ہو۔یعنی دوسروں کو نفع بھی پہنچائے۔" نیکی کرے۔دوسروں کو نفع پہنچائے تب کامل ایمان ہوتا ہے۔فرمایا " اس سے پتا لگتا ہے کہ کس قدر تبدیلی کی ہے اور یہ مدارج تب حاصل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات پر ایمان ہو اور ان کا علم ہو۔جب تک یہ بات نہ ہو انسان بدیوں سے بھی بچ نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا پتا کرنے کے لئے انسان کو ہمیشہ قرآن کریم کو بھی پڑھتے رہنا چاہئے۔اس کے احکامات کو پڑھتے رہنا چاہئے۔فرمایا کہ " دوسروں کو نفع پہنچانا تو بڑی بات ہے۔بادشاہوں کے رعب اور تعزیرات ہند سے بھی تو ایک حد تک "لوگ "ڈرتے ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔پھر کیوں احکم الحاکمین کے قوانین کی خلاف ورزی میں دلیری پیدا ہوتی ہے؟ کیا اس کی کوئی اور وجہ ہے بجز اس کے کہ اُس پر ایمان نہیں ہے ؟" ایمان میں کمزوری ہے اس لئے ورنہ تو حکومتوں کے قانون سے کیوں ڈرتے ہو۔فرمایا " یہی ایک باعث ہے۔" جو برائیاں سرزد ہوتی ہیں، جو نیکیاں نہیں ہو تیں۔پس جیسا کہ پہلے بھی