خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 522
خطبات مسرور جلد 15 522 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 ایک ہے وہ زمین پر فرشتے کی طرح چلتا ہے" جس کا ظاہر اور باطن ایک ہے۔جو دل میں ہے وہ ظاہر ہے تو پھر اس کی نیکی کا معیار ایسا ہو گیا کہ وہ فرشتہ بن گیا۔فرمایا کہ " دہر یہ ایسی گورنمنٹ کے نیچے نہیں کہ وہ حسن اخلاق کو پاسکے۔" ایک دہر یہ جو خدا کو نہیں مانتا بیشک اس کے اخلاق اچھے ہیں لیکن وہ اس معیار کو نہیں پہنچ سکتا۔کہیں نہ کہیں اس کے دل میں ایسی بات آجائے گی جو کھوٹ پیدا کرنے والی ہے۔ہو سکتا ہے برائیوں سے رک جائے۔بعض بنیادی اخلاق بھی دکھا دے لیکن پھر بھی نیکیوں میں اس کی حالت کمزور ہی رہے گی۔فرمایا کہ " تمام نتائج ایمان سے پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ سانپ کے سوراخ کو پہچان کر کوئی انگلی اس میں نہیں ڈالتا۔جب ہم جانتے ہیں کہ ایک مقدار اسٹرکنیا کی قاتل ہے۔"زہر کا نام ہے " تو ہمارا اس کے قاتل ہونے پر ایمان ہے اور اس ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اس کو منہ نہیں لگائیں گے اور مرنے سے بچ جائیں گے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 313-314) ایمان کے قوی ہونے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاک بازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ہے۔جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمال صالحہ میں کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے۔لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے۔" انسان یہ یقین کر لے کہ اللہ تعالیٰ سب طاقتوں کا مالک ہے۔عالم الغیب ہے اور ہر جگہ مجھے دیکھ رہا ہے تو فرمایا کہ پھر اس طرح ایک عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پید اہو جاتی ہے۔خود بخود بہتر اعمال ہونے لگ جاتے ہیں۔برائیوں کے بجائے نیکیوں کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔فرمایا کہ " خدا تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا۔" یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف خدا پر ایمان ہے دوسری طرف گناہ کر رہا ہو " کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضاء کو کاٹ دیتا ہے۔دیکھو اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جائیں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جائیں پھر وہ گناہ جو اُن اعضاء سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے ؟ ٹھیک اسی طرح پر جب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی۔وہ دیکھتا ہے پر نہیں دیکھتا۔"بد نظری سے نہیں دیکھتا۔اگر کوئی چیز دیکھتا بھی ہے تو برائی کی نظر سے کسی چیز کو نہیں دیکھتا۔فرمایا " کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔" یعنی وہ جو حرص اور گندگی کی نظر ہے، حرص کی نظر ہے یا کسی چیز کو دیکھنے کے بعد گندی نظر ہے یا ناجائز خواہشات کی نظر ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔فرمایا " وہ کان رکھتا ہے مگر بہرا ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں