خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 521
خطبات مسرور جلد 15 521 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 کہ بہت ساری دوسری برائیاں انہوں نے نہیں کیں۔فرمایا کہ اس انسان نے " یا نوع انسان کی کوئی خدمت نہیں کی۔" اگر اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کیا اور بندوں کا حق ادا نہیں کیا " اور اس طرح پر کوئی نیکی نہیں کی۔" بیشک بہت ساری برائیاں اس نے نہیں کیں لیکن اگر اللہ کا حق ادا نہیں کیا اور انسان کی خدمت نہیں کی ، اس کا حق ادا نہیں کیا تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے۔فرمایا کہ " پس جاہل ہو گا وہ شخص جو ان باتوں کو پیش کر کے اسے نیکو کاروں میں داخل کرے کیونکہ یہ تو بد چلنیاں ہیں۔صرف اتنے خیال سے اولیاء اللہ میں داخل نہیں ہو جاتا۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 241-242) پھر اس بارے میں مزید آپ فرماتے ہیں کہ : " یہ فخر کی بات نہیں کہ انسان اتنی ہی بات پر خوش ہو جاوے کہ وہ زنا نہیں کرتا یا اس نے خون نہیں کیا، چوری نہیں کی۔یہ کوئی فضیلت ہے کہ برے کاموں سے بچنے کا فخر حاصل کرتا ہے؟ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ میں نے کبھی کوئی برائی نہیں کی۔فرمایا کہ "دراصل وہ جانتا ہے کہ چوری کرے گا تو ہاتھ کاٹا جاوے گا۔" فرمایا کہ "موجودہ قانون کی رُو سے زندان میں جاوے گا۔" چوری کرے گا پکڑا جائے گا تو جیل ہو گی سزا ملے گی۔تو یہ کوئی کمال تو نہیں ہے۔یہ تو سزا کا خوف ہے۔پھر فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ایسی چیز کا نام نہیں ہے کہ برے کام سے ہی پر ہیز کرے بلکہ جب تک بدیوں کو چھوڑ کر نیکیاں اختیار نہ کرے وہ اس روحانی زندگی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔" اسلام کی تعلیم کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی روحانیت میں اضافہ کرو۔اپنی روحانی زندگی کو بہتر بناؤ۔اگر صرف بدیاں چھوڑ دیں تو روحانی زندگی بہتر نہیں ہو سکتی۔روحانی زندگی کو اختیار کرنے کے لئے بدیاں چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرنی ضروری ہیں۔ورنہ فرمایا کہ روحانی زندگی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔پھر وہ مردہ ہو جائے گا۔فرمایا کہ " نیکیاں بطور غذا کے ہیں جیسے کوئی شخص بغیر غذا کے زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح جب تک نیکی اختیار نہ کرے تو کچھ نہیں۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 371-372) اور یہ حالت ایمان میں بڑھنے سے حاصل ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ پر ایمان کا معیار کیسا ہونا چاہئے۔یہ معیار تبھی حاصل ہو گا جب انسان کا ظاہر و باطن بھی ایک ہو صرف ظاہری ایمان نہ ہو بلکہ جس طرح یہ یقین ہے کہ ایک زہر نقصان کرتا ہے۔انسان کھالے تو وہ اس سے مر سکتا ہے۔جس طرح یہ یقین ہے کہ ایک سانپ کے سوراخ میں اگر انسان ہاتھ ڈالے تو اگر سانپ اندر ہے تو ڈس سکتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات پر یہ یقین ہونا چاہئے کہ اگر میں برائیاں کروں گا تو اللہ تعالیٰ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے مجھے سزا ملے گی۔اور نیکیاں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کا اجر دیتا ہی ہے۔انسان کے ہر عمل سے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اظہار ہو رہا ہو۔ہر وقت یہ احساس ہو کہ خدا تعالیٰ میرے ہر کام کو دیکھ رہا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " دراصل نیک وہی ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک ہو اور جس کا دل اور باہر