خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 520

خطبات مسرور جلد 15 520 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 لیکن اللہ تعالیٰ کو پتا ہے اور یہ ایمان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پتا ہے۔ہر چیز کا علم ہے۔وہ غیب کا علم رکھتا ہے۔فرمایا " اور اگر چہ کوئی زبان سے نیکی کا اقرار کرے مگر اپنے دل کے اندر وہ جو کچھ رکھتا ہے اس کے لئے اس کو ہمارے مواخذہ کا خوف نہیں اور دنیا کی حکومتوں میں سے کوئی ایسی نہیں جس کا خوف انسان کو رات میں اور دن میں، اندھیرے میں اور اُجالے میں، خلوت میں اور جلوت میں، ویرانے میں اور آبادی میں، گھر میں اور بازار میں ہر حالت میں یکساں ہو۔" بعض دفعہ انسان چُھپ کے کام کر رہا ہوتا ہے۔مختلف جگہوں میں بیٹھا ہوا ہے۔مختلف حالتوں میں ہے اور اس کو پتا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے بظاہر کوئی اس کو دیکھ نہیں رہا۔اس کو ہر چیز کا پتا ہے اس لئے خوف بھی نہیں ہے اور اس خوف نہ ہونے کی وجہ سے وہ غلط کام کر جاتا ہے۔اس لئے اگر حقیقی نیکی کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ پر ایمان بڑا ضروری ہے فرمایا " پس درستی اخلاق کے واسطے ایسی ہستی پر ایمان کا ہونا ضروری ہے جو ہر حال اور ہر وقت میں اس کے نگران اور اس کے اعمال اور افعال اور اس کے سینہ کے بھیدوں کی شاہد ہے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 313) اور وہ خدا تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی نہیں۔پس یہ ایمان اگر ہو ، اس معیار کا ایمان ہو ، ہر وقت اللہ تعالیٰ یادر ہے تو تبھی انسان حقیقی نیکی کر سکتا ہے۔پھر حقیقی نیکی کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " تقویٰ کے معنی ہیں بدی کی باریک راہوں سے پر ہیز کرنا۔مگر یاد رکھو نیکی اتنی نہیں ہے کہ ایک شخص کہے کہ میں نیک ہوں اس لئے کہ میں نے کسی کا مال نہیں لیا۔" چوری نہیں کی۔غصب نہیں کیا۔غلط طریقے سے کمائی نہیں کی۔تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے۔فرمایا کہ "نقب زنی نہیں کی "اگر کوئی کہتا ہے "چوری نہیں کرتا۔بد نظری اور زنا نہیں کرتا ایسی نیکی عارف کے نزدیک ہنسی کے قابل ہے کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یاڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا۔پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوع انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفاداری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے دینے کو تیار ہو۔اسی لئے یہاں فرمایا ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129)۔یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو بدی سے پر ہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں۔" فرمایا کہ " یہ خوب یاد رکھو کہ نرا بدی سے پر ہیز کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں۔" یہ کہ دینا میں بدی نہیں کرتا بڑا نیک ہوں تو یہ کوئی خوبی نہیں ہے۔"جب تک اس کے ساتھ نیکیاں نہ کرے۔بہت سے لوگ ایسے موجود ہوں گے جنہوں نے کبھی زنا نہیں کیا، خون نہیں کیا، چوری نہیں کی ، ڈاکہ نہیں مارا اور باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی صدق و وفا کا نمونہ انہوں نے نہیں دکھایا۔" کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی نیکی نہیں کی، کوئی قربانی نہیں دی۔باوجود اس کے