خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 519
خطبات مسرور جلد 15 519 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 موقعوں پر مختلف زاویوں سے کھول کر بیان فرمایا ہے۔اس وقت میں اس بارے میں آپ کے چند اقتباسات پیش کروں گا۔اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ نیکی کیا چیز ہے اور یہ بھی کہ بظاہر ایک چھوٹی سی نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا کا مورد بنا دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: " نیکی ایک زینہ ہے اسلام اور خدا کی طرف چڑھنے کا۔" اسلام کی حقیقت معلوم کرنی ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے۔اس کا قرب حاصل کرنا ہے تو نیکیاں اس کے لئے ایک زمینہ ہیں۔"لیکن یاد رکھو کہ نیکی کیا چیز ہے " فرمایا کہ " شیطان ہر ایک راہ میں لوگوں کی راہ زنی کرتا اور ان کو راہ حق سے بہکاتا ہے۔مثلاً رات کو روٹی زیادہ پک گئی۔" امیر آدمی ہے یا کسی کے گھر میں رات کو کھانا زیادہ پک گیا۔روٹی زیادہ پک گئی۔" صبح کو باسی بیچ رہی۔" کھائی نہیں گئی۔رات کو بیچ گئی اور اگلے دن فرمایا کہ "عین کھانے کے وقت کہ اس کے سامنے اچھے اچھے کھانے رکھے ہیں ابھی ایک لقمہ نہیں "لیا " کہ دروازے پر آکر فقیر نے صدا کی اور روٹی مانگی " تو اس کھانے والے نے " کہا کہ باسی روٹی سائل کو دے دو۔"گل کی جو بچی ہوئی روٹی تھی وہ دے دو۔حالانکہ اپنے سامنے تازہ کھانا پکا ہوا ہے۔فرمایا کہ " کیا یہ نیکی ہو گی ؟ باسی روٹی تو پڑی ہی رہنی تھی۔تنتم پسند سے کیوں کھانے لگے ؟" آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِمَا وَ أسيرًا (الدھر:9)" فرمایا کہ " یہ بھی معلوم رہے کہ طعام کہتے ہی پسندیدہ طعام کو ہیں۔" یعنی اچھا طعام اس کو کہا جاتا ہے جو پسندیدہ کھانا ہو۔"سڑا ہوا باسی نہیں کہلاتا۔" ایک دن کا پرانا کھانا ہے جس کو خود پسند نہیں کرتے وہ کھانا عربی میں طعام نہیں کہلا تا۔فرمایا کہ " الغرض اس رکابی میں سے جس میں ابھی تازہ کھانا اور لذیذ اور پسندیدہ رکھا ہوا ہے۔" پلیٹ میں کھا رہے ہو۔تمہارے سامنے پڑا ہے رکھا ہوا ہے۔"کھانا شروع نہیں کیا۔فقیر کی صدا پر نکال دے تو یہ تو نیکی ہے۔" طعام (ملفوظات جلد 1 صفحہ 75) ابھی تازہ کھانا سامنے پڑا ہے اور اگر کوئی مانگنے والا آتا ہے، غریب آدمی آتا ہے اور وہ اس کو دے دیتے ہو تو یہ نیکی ہے۔نہ یہ کہ اچھا میں تو تازہ کھانا کھاتا ہوں اور گھر والوں کو کہہ دیا کہ کل کا جو بچا ہوا کھانا تھاوہ تم اس کو دے دو۔تو اس حد تک گہرائی میں انسان جائے تو تبھی وہ حقیقی نیکی کو پا سکتا ہے۔پس حقیقی نیکی کرنے کی کوشش ہونی چاہئے اور یہ نیکی کس طرح پیدا ہوتی ہے۔یہ نیکی خدا تعالیٰ پر کامل ایمان کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : "حقیقی نیکی کے واسطے یہ ضروری ہے کہ خدا کے وجود پر ایمان ہو کیونکہ مجازی نگام کو یہ معلوم نہیں کہ کوئی گھر کے اندر کیا کرتا ہے اور پس پردہ کسی کا کیا فعل ہے۔اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان ہو اور ایمان یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ہر چیز پر نظر ہے۔بظاہر جو حکام ہیں، بظاہر جو حکومت ہے، ادارے ہیں ان کو تو انسان کے اندر کا نہیں پتا کہ کیا چیز ہے۔