خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 518
خطبات مسرور جلد 15 518 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اکتوبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 / اکتوبر 2017ء بمطابق 27 / اخاء 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومنوں کو فرماتا ہے کہ تمہارا صلح نظر ہمیشہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرة: 149) ہونا چاہئے یعنی تم نیکیوں میں ہمیشہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور پھر نیکیاں بجالانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بہترین مخلوق قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّة ( البينة: 8) یعنی یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے یہی ہیں جو بہترین مخلوق ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے مختصراً ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " انسان کو چاہئے کہ اپنا فرض ادا کرے اور اعمال صالحہ میں ترقی کرے۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 15) اس آیت کے حوالے سے آپ نے فرمایا۔پس اعمال صالحہ میں ترقی کرنا، نیک کام کرنا، نیکیاں بجالا ناہی ایک مسلمان کو ، ایک مومن کو حقیقی مومن بناتا ہے اور اس کے لئے ہمیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے۔ہماری رہنمائی کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے اس بارے میں ارشادات فرمائے ہیں۔مثلاً یہ کہ نیکی کیا چیز ہے؟ حقیقی نیکی کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے ؟ نیکی بجالانے کے لئے خدا تعالیٰ پر ایمان کیوں ضروری ہے ؟ ایمان کا معیار کیا ہونا چاہئے ؟ اس ایمان کے معیار کو ہمیں کس طرح بڑھانا چاہئے؟ کن ذریعوں سے نیکی کی جاتی ہے؟ نیکی کے کون کون سے مختلف پہلو ہیں ؟ کتنی قسم کی نیکیاں ہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والے کو کس طرح نوازتا ہے ؟ پھر یہ بھی آپ نے بیان فرمایا کہ جائز چیزوں کا بھی اعتدال کی حد تک کرنا نیکی ہے۔اگر اس سے زیادہ کرو تو پھر نیکی میں کمی کر دیتا ہے۔یہ بھی کہ ایک مومن کو اپنی نیکی کے دائرے کو کس قدر وسیع کرنا چاہیے ؟ غرض کہ آپ نے نیکیوں کی حکمت، اس کی حقیقت اور اس کی روح کے مضمون کو مختلف