خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 514 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 514

خطبات مسرور جلد 15 514 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20اکتوبر 2017 کسی اور مسلمان عالم کو اس کی توفیق نہیں ملی۔پھر قُلْ اِنْ كُنْتُم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بھی خوبصورت استدلال آپ نے پیش فرمایا۔عربوں میں تو خاص طور پر اب بھی حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھا جاتا ہے اور یہ ان کا بڑا راسخ نظریہ ہے۔بہر حال اس کارڈ کرتے ہوئے اس دلیل سے آپ فرماتے ہیں کہ : "میرے نزدیک مومن وہی ہوتا ہے جو آپ کی اتباع کرتا ہے اور وہی کسی مقام پر پہنچتا ہے۔جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران:32) یعنی کہہ دو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو تا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا محبوب بنالے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "اب محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ محبوب کے فعل کے ساتھ خاص موانست ہو۔" خاص انس ہو۔ایک تعلق ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ " اور مرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔" یعنی آپ کی وفات ہوئی۔" آپ نے مرکر دکھا دیا۔پھر کون ہے جو زندہ رہے یا زندہ رہنے کی آرزو کرے ؟ یا کسی اور کے لئے تجویز کرے کہ وہ زندہ رہے ؟" اگر کوئی حقیقی طور پر آپ کو ماننے والا ہے تو نہ وہ زندہ رہ سکتا ہے، نہ کوئی آرزو کرے گا اور نہ ہی اس کو کسی اور کے زندہ رہنے کے نظریے پر یقین رکھنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ "محبت کا تقاضا تو یہی ہے کہ آپ کی اتباع میں ایسا گم ہو کہ اپنے جذباتِ نفس کو تھام لے اور یہ سوچ لے کہ میں کسی کی اُمت ہوں۔ایسی صورت میں جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں وہ کیونکر آپ صلی یی کم کی محبت اور اتباع کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ اس لئے کہ آپ کی نسبت وہ گوارا کرتا ہے کہ مسیح کو افضل قرار دیا جاوے اور آپ کو مردہ کہا جاوے۔مگر اُس کے لئے وہ پسند کرتا ہے کہ زندہ یقین کیا جاوے؟" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 228-229) ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا، آپ کی اتباع کا دعویٰ۔دوسری طرف یہ کہہ کر کہ مسیح زندہ ہے اس کو افضل قرار دیا جارہا ہے۔پس آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے ہر لحاظ سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا ہے اور آپ کی شان کو بلند فرمایا ہے اور یہی آپ کی بعثت کا مقصد تھا جس پر علماء کو ہر وقت اعتراض رہتا ہے۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ زندہ نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ فرماتے ہیں: " غور کر کے دیکھو کہ جب یہ لوگ خلافِ قرآن وسنت کہتے ہیں کہ حضرت عیسی زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں تو پادریوں کو نکتہ چینی کا موقع ملتا ہے اور وہ جھٹ پٹ کہہ اٹھتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر مر گیا اور معاذ اللہ وہ زمینی ہے۔" اور یہی کچھ ٹی وی چینلوں پر ہو تا رہا ہے جس پر عرب دنیا میں بڑی بے چینی پیدا ہوتی رہی ہے۔آخر کار جب ہماری