خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 513

خطبات مسرور جلد 15 513 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20اکتوبر 2017 یہ ہے ہمارے ایمان کا حصہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارہ میں ایک عیسائی سے آپ کی بحث ہورہی تھی۔سوال جواب ہو رہے تھے۔اس عیسائی نے کہا حضرت عیسی علیہ السلام کے مقام کے بارے میں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے بارے میں یہ کہتے ہیں۔انہوں نے یہ کہا ہے کہ "میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندہ ہو کہ میں تمہیں آرام دوں گا اور یہ بھی کہا عیسی علیہ السلام نے کہ " میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں۔میں زندگی اور راستی ہوں۔" یعنی میں روشنی ہوں۔میں رستہ دکھانے والا ہوں۔میں زندگی دینے والا ہوں۔میرے پاس آؤ۔تو عیسائی نے سوال کیا کہ " کیا بانی اسلام " یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم " نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کئے ہیں؟" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ " قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے قُل اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران:32) یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آدمیری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔" فرمایا کہ یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گزشتہ اقوال پر غالب ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔" مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ روشنی پاؤ۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ آپ اعلان کریں کہ جو میری پیروی کرے گا وہ اللہ کا محبوب بن جائے گا اور گناہ بھی بخشے جائیں گے۔فرماتے ہیں کہ " پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنادیتا ہے اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔" سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 372) یہ وہ زمانہ تھا جب ہر طرف عیسائی پادری عیسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے۔ہندوستان میں لاکھوں مسلمان عیسائی ہو چکے تھے۔مسلمان علماء اور دوسرے لیڈروں کو توفیق نہیں تھی کہ اسلام کا دفاع کر سکیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور شان کو ایسے رنگ میں بیان کریں کہ غیر مسلموں کے منہ بند ہو سکیں۔ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا مقابلہ کیا۔آپ ہی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے بھیجا تھا۔اور پھر ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عیسائی پادریوں کے اسلام پر حملے کو اللہ تعالیٰ کے اس پہلوان نے، اس جری اللہ نے دلائل اور براہین سے روکا۔اور نہ صرف روکا بلکہ پسپا کیا اور اس بات کا اظہار اس وقت کے مسلمانوں نے کیا۔تاریخ میں ہمیں ملتا ہے بلکہ اس زمانے کے علماء جو ہمارے مخالف ہیں انہوں نے بھی اس بات کا اقرار کیا۔چنانچہ چند سال پہلے ڈاکٹر اسرار احمد جو فوت ہو گئے ہیں انہوں نے بھی اس بات کا اقرار کیا تھا کہ اُس زمانے میں حقیقت میں اسلام کا دفاع حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے ہی کیا تھا۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح آپ نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بلند کیا