خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 515

خطبات مسرور جلد 15 515 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20اکتوبر 2017 دلیلیں سنیں، "حوار" کے پروگرام سنے ، ایم ٹی اے پر عربی پروگرام سنے ،تب بہت سارے لوگوں نے اس کو پسند کیا اور ان دلائل کے قائل ہوئے۔لیکن علماء پھر بھی قائل نہیں ہو رہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " حضرت عیسی زندہ اور آسمانی ہے اور اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر کے کہتے ہیں کہ وہ مردہ ہے۔" ان کی یہ باتیں ہیں کہ وہ جھٹ کہتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر مر گیا معاذ اللہ وہ زمینی ہے۔عیسائی پادری یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی زندہ ہیں اور آسمانی ہیں اور اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر کے عیسائی یہ کہتے ہیں کہ وہ مردہ ہے۔یہی ان کا پراپیگنڈہ ہو تا رہا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ "سوچ کر بتاؤ کہ وہ پیغمبر جو افضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہے ایسا اعتقاد کر کے اس کی فضیلت اور خاتمیت کو یہ لوگ بٹہ نہیں لگاتے ؟ ضرور لگاتے ہیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں۔" آپ فرماتے ہیں کہ "میں یقین رکھتا ہوں کہ پادریوں سے جس قدر تو ہین ان لوگوں نے اسلام کی کرائی ہے " یعنی ان مسلمانوں نے جو یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی زندہ ہیں " اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مردہ کہلایا ہے۔اسی کی سزا میں یہ نکبت اور بد بختی ان کے شامل حال ہو رہی ہے۔"مسلمانوں کا جو حال ہے یہ اسی وجہ سے ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک طرف تو منہ سے کہتے ہیں کہ وہ افضل الانبیاء ہیں۔" یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے افضل ہیں " اور دوسری طرف اقرار کر لیتے ہیں کہ 63 سال کے بعد مر گئے اور مسیح اب تک زندہ ہے اور نہیں مرا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء: 114)" کہ اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بہت بڑا فضل ہے۔" پھر کیا یہ ارشاد الہی غلط ہے ؟" فرماتے ہیں " نہیں۔یہ بالکل درست اور صحیح ہے۔وہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مُردہ ہیں۔اس سے بڑھ کر کوئی کلمہ توہین کا نہیں ہو سکتا۔حقیقت یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی فضیلت ہے جو کسی نبی میں نہیں ہے۔میں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔" آپ فرماتے ہیں " کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جس نبی کی امت کہلاتے ہیں اسی کو معاذ اللہ مردہ کہتے ہیں اور اس نبی کو جس کی اُمت کا خاتمہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَة (البقرة: 62) پر ہوا ہے " یعنی ان پر ذلت اور مسکینی کی مار ڈالی گئی تھی " اسے زندہ کہا جاتا ہے۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 28-29 اس بات کو بیان کرنے کے بعد کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو نبی آچکے ، وہ اب کوئی بھی نہیں آ سکتا۔اب نہ عیسی علیہ السلام آسکتے ہیں۔وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے نبی تھے اور وہ فوت ہو گئے۔حضرت موسیٰ کی امت کا اب کوئی نبی نہیں آ سکتا۔پھر آپ بیان فرماتے ہیں کہ یہ فیض اب